previous next

۱-کُرِنتھِیوں 15

مسِیح کی قِیامت

1 اب اَے بھائِیو! مَیں تُمہیں وُہی خُوشخبری جتائے دیتا ہُوں جو پہلے دے چُکا ہُوں جِسے تُم نے قبُول بھی کر لِیا تھا اور جِس پر قائِم بھی ہو۔

2 اُسی کے وسِیلہ سے تُم کو نجات بھی مِلتی ہے بشرطیکہ وہ خُوشخبری جو مَیں نے تُمہیں دی تھی یاد رکھتے ہو ورنہ تُمہارا اِیمان لانا بے فائِدہ ہُؤا۔
3 چُنانچہ مَیں نے سب سے پہلے تُم کو وُہی بات پُہنچا دی جو مُجھے پُہنچی تھی کہ مسِیح کِتابِ مُقدّس کے مُطابِق ہمارے گُناہوں کے لِئے مُؤا۔ 4 اور دفن ہُؤا اور تِیسرے دِن کِتابِ مُقدّس کے مُطابِق جی اُٹھا۔ 5 اور کیفا کو اور اُس کے بعد اُن بارہ کو دِکھائی دِیا۔ 6 پِھر پانچ سَو سے زِیادہ بھائِیوں کو ایک ساتھ دِکھائی دِیا ۔ جِن میں سے اکثر اب تک مَوجُود ہیں اور بعض سو گئے۔

7 پِھر یعقُو ب کو دِکھائی دِیا ۔ پِھر سب رسُولوں کو۔
8 اور سب سے پِیچھے مُجھ کو جو گویا ادھُورے دِنوں کی پَیدایش ہُوں دِکھائی دِیا۔ 9 کیونکہ مَیں رسُولوں میں سب سے چھوٹا ہُوں بلکہ رسُول کہلانے کے لائِق نہیں اِس لِئے کہ مَیں نے خُدا کی کلِیسیا کو ستایا تھا۔ 10 لیکن جو کُچھ ہُوں خُدا کے فضل سے ہُوں اور اُس کا فضل جو مُجھ پر ہُؤا وہ بے فائِدہ نہیں ہُؤا بلکہ مَیں نے اُن سب سے زِیادہ مِحنت کی اور یہ میری طرف سے نہیں ہُوئی بلکہ خُدا کے فضل سے جو مُجھ پر تھا۔

11 پس خَواہ مَیں ہُوں خَواہ وہ ہوں ہم یِہی مُنادی کرتے ہیں اور اِسی پر تُم اِیمان بھی لائے۔

ہماری قِیامت


12 پس جب مسِیح کی یہ مُنادی کی جاتی ہے کہ وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا تو تُم میں سے بعض کِس طرح کہتے ہیں کہ مُردوں کی قِیامت ہے ہی نہیں؟۔ 13 اگر مُردوں کی قِیامت نہیں تو مسِیح بھی نہیں جی اُٹھا۔ 14 اور اگر مسِیح نہیں جی اُٹھا تو ہماری مُنادی بھی بے فائِدہ ہے اور تُمہارا اِیمان بھی بے فائِدہ۔ 15 بلکہ ہم خُدا کے جُھوٹے گواہ ٹھہرے کیونکہ ہم نے خُدا کی بابت یہ گواہی دی کہ اُس نے مسِیح کو جِلا دِیا حالانکہ نہیں جِلایا اگر بِالفرض مُردے نہیں جی اُٹھتے۔ 16 اور اگر مُردے نہیں جی اُٹھتے تو مسِیح بھی نہیں جی اُٹھا۔ 17 اور اگر مسِیح نہیں جی اُٹھا تو تُمہارا اِیمان بے فائِدہ ہے تُم اب تک اپنے گُناہوں میں گرِفتار ہو۔ 18 بلکہ جو مسِیح میں سو گئے ہیں وہ بھی ہلاک ہُوئے۔

19 اگر ہم صِرف اِسی زِندگی میں مسِیح میں اُمّید رکھتے ہیں تو سب آدمِیوں سے زِیادہ بدنصِیب ہیں۔
20 لیکن فی الواقِع مسِیح مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے اور جو سو گئے ہیں اُن میں پہلا پَھل ہُؤا۔ 21 کیونکہ جب آدمی کے سبب سے مَوت آئی تو آدمی ہی کے سبب سے مُردوں کی قِیامت بھی آئی۔ 22 اور جَیسے آدم میں سب مَرتے ہیں وَیسے ہی مسِیح میں سب زِندہ کِئے جائیں گے۔ 23 لیکن ہر ایک اپنی اپنی باری سے ۔ پہلا پَھل مسِیح ۔ پِھر مسِیح کے آنے پر اُس کے لوگ۔ 24 اِس کے بعد آخِرت ہو گی ۔ اُس وقت وہ ساری حُکومت اور سارا اِختیار اور قُدرت نیست کر کے بادشاہی کو خُدا یعنی باپ کے حوالہ کر دے گا۔ 25 کیونکہ جب تک کہ وہ سب دُشمنوں کو اپنے پاؤں تلے نہ لے آئے اُس کو بادشاہی کرنا ضرُور ہے۔ 26 سب سے پِچھلا دُشمن جو نیست کِیا جائے گا وہ مَوت ہے۔ 27 کیونکہ خُدا نے سب کُچھ اُس کے پاؤں تَلے کر دِیا ہے مگر جب وہ فرماتا ہے کہ سب کُچھ اُس کے تابِع کر دِیا گیا تو ظاہِر ہے کہ جِس نے سب کُچھ اُس کے تابِع کر دِیا وہ اَلگ رہا۔

28 اور جب سب کُچھ اُس کے تابِع ہو جائے گا تو بیٹا خُود اُس کے تابِع ہو جائے گاجِس نے سب چِیزیں اُس کے تابِع کر دِیں تاکہ سب میں خُدا ہی سب کُچھ ہو۔
29 ورنہ جو لوگ مُردوں کے لِئے بپتِسمہ لیتے ہیں وہ کیا کریں گے؟ اگر مُردے جی اُٹھتے ہی نہیں تو پِھر کیوں اُن کے لِئے بپتِسمہ لیتے ہیں؟۔ 30 اور ہم کیوں ہر وقت خطرہ میں پڑے رہتے ہیں؟۔ 31 اَے بھائِیو! مُجھے اُس فخر کی قَسم جو ہمارے خُداوند مسِیح یِسُو ع میں تُم پر ہے مَیں ہر روز مَرتا ہُوں۔

32 اگر مَیں اِنسان کی طرح اِفِسُس میں درِندوں سے لڑا تو مُجھے کیا فائِدہ؟ اگر مُردے نہ جِلائے جائیں گے تو آؤ کھائیں پِئیں کیونکہ کل تو مَر ہی جائیں گے۔
33 فرِیب نہ کھاؤ ۔ بُری صُحبتیں اچھّی عادتوں کو بِگاڑ دیتی ہیں۔

34 راستباز ہونے کے لِئے ہوش میں آؤ اور گُناہ نہ کرو کیونکہ بعض خُدا سے ناواقِف ہیں ۔ مَیں تُمہیں شرم دِلانے کو یہ کہتا ہُوں۔

جی اُٹھے جِسم کے خصائص


35 اب کوئی یہ کہے گا کہ مُردے کِس طرح جی اُٹھتے ہیں اور کَیسے جِسم کے ساتھ آتے ہیں؟۔ 36 اَے نادان! تُو خُود جو کُچھ بوتا ہے جب تک وہ نہ مَرے زِندہ نہیں کِیا جاتا۔ 37 اور جو تُو بوتا ہے یہ وہ جِسم نہیں جو پَیدا ہونے والا ہے بلکہ صِرف دانہ ہے ۔ خَواہ گیہُوں کا خَواہ کِسی اَور چِیز کا۔

38 مگر خُدا نے جَیسا اِرادہ کر لِیا وَیسا ہی اُس کو جِسم دیتا ہے اور ہر ایک بِیج کو اُس کا خاص جِسم۔

39 سب گوشت یکساں گوشت نہیں بلکہ آدمِیوں کا گوشت اَور ہے ۔ چَوپایوں کا گوشت اَور ۔ پرِندوں کا گوشت اَور ہے مچھلِیوں کا گوشت اَور۔
40 آسمانی بھی جِسم ہیں اور زمِینی بھی مگر آسمانِیوں کا جلال اَور ہے زمِینِیوں کا اَور۔

41 آفتاب کا جلال اَور ہے مہتاب کا جلال اَور ۔ سِتاروں کا جلال اَور کیونکہ سِتارے سِتارے کے جلال میں فرق ہے۔
42 مُردوں کی قِیامت بھی اَیسی ہی ہے ۔ جِسم فنا کی حالت میں بویا جاتا ہے اور بقا کی حالت میں جی اُٹھتا ہے۔ 43 بے حُرمتی کی حالت میں بویا جاتا ہے اور جلال کی حالت میں جی اُٹھتا ہے ۔ کمزوری کی حالت میں بویا جاتا ہے اور قُوّت کی حالت میں جی اُٹھتا ہے۔ 44 نفسانی جِسم بویا جاتا ہے اور رُوحانی جِسم جی اُٹھتا ہے ۔ جب نفسانی جِسم ہے تو رُوحانی جِسم بھی ہے۔ 45 چُنانچہ لِکھا بھی ہے کہ پہلا آدمی یعنی آدم زِندہ نفس بنا ۔ پِچھلا آدم زِندگی بخشنے والی رُوح بنا۔ 46 لیکن رُوحانی پہلے نہ تھا بلکہ نفسانی تھا ۔ اِس کے بعد رُوحانی ہُؤا۔ 47 پہلا آدمی زمِین سے یعنی خاکی تھا ۔ دُوسرا آدمی آسمانی ہے۔ 48 جَیسا وہ خاکی تھا وَیسے ہی اَور خاکی بھی ہیں اور جَیسا وہ آسمانی ہے وَیسے ہی اَور آسمانی بھی ہیں۔

49 اور جِس طرح ہم اِس خاکی کی صُورت پر ہُوئے اُسی طرح اُس آسمانی کی صُورت پر بھی ہوں گے۔

50 اَے بھائِیو! میرا مطلَب یہ ہے کہ گوشت اور خُون خُدا کی بادشاہی کے وارِث نہیں ہو سکتے اور نہ فنا بقا کی وارِث ہو سکتی ہے۔
51 دیکھو مَیں تُم سے بھید کی بات کہتا ہُوں ۔ ہم سب تو نہیں سوئیں گے مگر سب بدل جائیں گے۔ 52 اور یہ ایک دَم میں ۔ ایک پَل میں ۔ پِچھلا نرسِنگا پُھونکتے ہی ہو گا کیونکہ نرسِنگا پُھونکا جائے گا اور مُردے غَیرفانی حالت میں اُٹھیں گے اور ہم بدل جائیں گے۔ 53 کیونکہ ضرُور ہے کہ یہ فانی جِسم بقا کا جامہ پہنے اور یہ مَرنے والا جِسم حیاتِ ابدی کا جامہ پہنے۔

54 اور جب یہ فانی جِسم بقا کا جامہ پہن چُکے گا اور یہ مَرنے والا جِسم حیاتِ ابدی کا جامہ پہن چُکے گا تو وہ قَول پُورا ہو گا جو لِکھا ہے کہ مَوت فتح کا لُقمہ ہو گئی۔

55 اَے مَوت تیری فتح کہاں رہی؟
اَے مَوت تیرا ڈنک کہاں رہا؟۔
56 مَوت کا ڈنک گُناہ ہے اور گُناہ کا زور شرِیعت ہے۔

57 مگر خُدا کا شُکر ہے جو ہمارے خُداوند یِسُو ع مسِیح کے وسِیلہ سے ہم کو فتح بخشتا ہے۔
58 پس اَے میرے عزِیز بھائِیو! ثابِت قدم اور قائِم رہو اور خُداوند کے کام میں ہمیشہ افزایش کرتے رہو کیونکہ یہ جانتے ہو کہ تُمہاری مِحنت خُداوند میں بے فائِدہ نہیں ہے۔

1 CORINTHIANS 15

Christ Was Raised to Life

1 My friends, I want you to remember the message I preached and that you believed and trusted.

2 You will be saved by this message, if you hold firmly to it. But if you don't, your faith was all for nothing.

3  t I told you the most important part of the message exactly as it was told to me. This part is:
Christ died for our sins,
as the Scriptures say.

4  t He was buried,
and three days later
he was raised to life,
as the Scriptures say.

5  t Christ appeared to Peter, t
then to the twelve.

6 After this, he appeared
to more than five hundred
other followers.
Most of them are still alive,
but some have died.

7 He also appeared to James,
then to all of the apostles.

8  t Finally, he appeared to me, even though I am like someone who was born at the wrong time.t
9  t I am the least important of all the apostles. In fact, I caused so much trouble for God's church that I don't even deserve to be called an apostle. 10 But God treated me with undeserved grace! He made me what I am, and his grace wasn't wasted. I worked much harder than any of the other apostles, although it was really God's grace at work and not me.

11 But it doesn't matter if I preached or if they preached. All of you believed the message just the same.

God's People //Will Be Raised to Life


12 If we preach that Christ was raised from death, how can some of you say the dead will not be raised to life? 13 If they won't be raised to life, Christ himself wasn't raised to life. 14 And if Christ wasn't raised to life, our message is worthless, and so is your faith.

15 If the dead won't be raised to life, we have told lies about God by saying he raised Christ to life, when he really did not.
16 So if the dead won't be raised to life, Christ wasn't raised to life. 17 Unless Christ was raised to life, your faith is useless, and you are still living in your sins. 18 And those people who died after putting their faith in him are completely lost.

19 If our hope in Christ is good only for this life, we are worse off than anyone else.
20 But Christ has been raised to life! And he makes us certain that others will also be raised to life. 21 Just as we will die because of Adam, we will be raised to life because of Christ. 22 Adam brought death to all of us, and Christ will bring life to all of us. 23 But we must each wait our turn. Christ was the first to be raised to life, and his people will be raised to life when he returns.

24 Then after Christ has destroyed all powers and forces, the end will come, and he will give the kingdom to God the Father.
25  t Christ will rule until he puts all his enemies under his power, 26 and the last enemy he destroys will be death. 27 t When the Scriptures say he will put everything under his power, they don't include God. It was God who put everything under the power of Christ.

28 After everything is under the power of God's Son, he will put himself under the power of God, who put everything under his Son's power. Then God will mean everything to everyone.
29  t If the dead are not going to be raised to life, what will people do who are being baptized for them? Why are they being baptized for those dead people? 30 And why do we always risk our lives 31 and face death every day? The pride that I have in you because of Christ Jesus our Lord is what makes me say this.

32 t What do you think I gained by fighting wild animals in Ephesus? If the dead are not raised to life,
“Let's eat and drink.
Tomorrow we die.”
33 Don't fool yourselves. Bad friends will destroy you.

34 Be sensible and stop sinning. You should be embarrassed that some people still don't know about God.

What Our Bodies Will Be Like


35 Some of you have asked, “How will the dead be raised to life? What kind of bodies will they have?” 36 Don't be foolish. A seed must die before it can sprout from the ground. 37 Wheat seeds and all other seeds look different from the sprouts that come up. 38 This is because God gives everything the kind of body he wants it to have. 39 People, animals, birds, and fish are each made of flesh, but none of them are alike. 40 Everything in the heavens has a body, and so does everything on earth. But each one is very different from all the others.

41 The sun isn't like the moon, the moon isn't like the stars, and each star is different.
42 That's how it will be when our bodies are raised to life. These bodies will die, but the bodies that are raised will live forever. 43 These ugly and weak bodies will become beautiful and strong.

44 As surely as there are physical bodies, there are spiritual bodies. And our physical bodies will be changed into spiritual bodies.
45  t The first man was named Adam, and the Scriptures tell us that he was a living person. But Jesus, who may be called the last Adam, is a life-giving spirit. 46 We see that the one with a spiritual body did not come first. He came after the one who had a physical body. 47 The first man was made from the dust of the earth, but the second man came from heaven. 48 Everyone on earth has a body like the body of the one who was made from the dust of the earth. And everyone in heaven has a body like the body of the one who came from heaven.

49 Just as we are like the one who was made out of earth, we will be like the one who came from heaven.
50 My friends, I want you to know that our bodies of flesh and blood will decay. This means they cannot share in God's kingdom, which lasts forever. 51 t I will explain a mystery to you. Not every one of us will die, but we will all be changed. 52 It will happen suddenly, quicker than the blink of an eye. At the sound of the last trumpet the dead will be raised. We will all be changed, so we will never die again. 53 Our dead and decaying bodies will be changed into bodies that won't die or decay.

54 t The bodies we now have are weak and can die. But they will be changed into bodies that are eternal. Then the Scriptures will come true,
“Death has lost the battle!

55  t Where is its victory?
Where is its sting?”
56 Sin is what gives death its sting, and the Law is the power behind sin.

57 But thank God for letting our Lord Jesus Christ give us the victory!
58 My dear friends, stand firm and don't be shaken. Always keep busy working for the Lord. You know that everything you do for him is worthwhile.