۱۔کرنتھیوں 8
1 اب مَیں بُتوں کی قربانی کے بارے میں بات کرتا ہوں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم سب صاحبِ علم ہیں۔ علم انسان کے پھولنے کا باعث بنتا ہے جبکہ محبت اُس کی تعمیر کرتی ہے۔2 جو سمجھتا ہے کہ اُس نے کچھ جان لیا ہے اُس نے اب تک اُس طرح نہیں جانا جس طرح اُس کو جاننا چاہئے۔3 لیکن جو اللہ سے محبت رکھتا ہے اُسے اللہ نے جان لیا ہے۔4 بُتوں کی قربانی کھانے کے ضمن میں ہم جانتے ہیں کہ دنیا میں بُت کوئی چیز نہیں اور کہ رب کے سوا کوئی اَور خدا نہیں ہے۔5 بےشک آسمان و زمین پر کئی نام نہاد دیوتا ہوتے ہیں، ہاں در اصل بہتیرے دیوتاؤں اور خداوندوں کی پوجا کی جاتی ہے۔6 توبھی ہم جانتے ہیں کہ فقط ایک ہی خدا ہے، ہمارا باپ جس نے سب کچھ پیدا کیا ہے اور جس کے لئے ہم زندگی گزارتے ہیں۔ اور ایک ہی خداوند ہے یعنی عیسیٰ مسیح جس کے وسیلے سے سب کچھ وجود میں آیا ہے اور جس سے ہمیں زندگی حاصل ہے۔7 لیکن ہر کسی کو اِس کا علم نہیں۔ بعض ایمان دار تو اب تک یہ سوچنے کے عادی ہیں کہ بُت کا وجود ہے۔ اِس لئے جب وہ کسی بُت کی قربانی کا گوشت کھاتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ایسا کرنے سے اُس بُت کی پوجا کر رہے ہیں۔ یوں اُن کا ضمیر کمزور ہونے کی وجہ سے آلودہ ہو جاتا ہے۔8 حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارا اللہ کو پسند آنا اِس بات پر مبنی نہیں کہ ہم کیا کھاتے ہیں اور کیا نہیں کھاتے۔ نہ پرہیز کرنے سے ہمیں کوئی نقصان پہنچتا ہے اور نہ کھا لینے سے کوئی فائدہ۔9 لیکن خبردار رہیں کہ آپ کی یہ آزادی کمزوروں کے لئے ٹھوکر کا باعث نہ بنے۔10 کیونکہ اگر کوئی کمزور ضمیر شخص آپ کو بُت خانے میں کھانا کھاتے ہوئے دیکھے تو کیا اُسے اُس کے ضمیر کے خلاف بُتوں کی قربانیاں کھانے پر اُبھارا نہیں جائے گا؟11 اِس طرح آپ کا کمزور بھائی جس کی خاطر مسیح قربان ہوا آپ کے علم و عرفان کی وجہ سے ہلاک ہو جائے گا۔12 جب آپ اِس طرح اپنے بھائیوں کا گناہ کرتے اور اُن کے کمزور ضمیر کو مجروح کرتے ہیں تو آپ مسیح کا ہی گناہ کرتے ہیں۔13 اِس لئے اگر ایسا کھانا میرے بھائی کو صحیح راہ سے بھٹکانے کا باعث بنے تو مَیں کبھی گوشت نہیں کھاؤں گا تاکہ اپنے بھائی کی گم راہی کا باعث نہ بنوں۔
1 Corinthians 8
1 Now concerning things sacrificed to idols: We know that we all have knowledge. Knowledge puffeth up, but love edifieth.2 If any man thinketh that he knoweth anything, he knoweth not yet as he ought to know;3 but if any man loveth God, the same is known by him.4 Concerning therefore the eating of things sacrificed to idols, we know that no idol is anything in the world, and that there is no God but one.5 For though there be that are called gods, whether in heaven or on earth; as there are gods many, and lords many;6 yet to us there is one God, the Father, of whom are all things, and we unto him; and one Lord, Jesus Christ, through whom are all things, and we through him.7 Howbeit there is not in all men that knowledge: but some, being used until now to the idol, eat as of a thing sacrificed to an idol; and their conscience being weak is defiled.8 But food will not commend us to God: neither, if we eat not, are we the worse; nor, if we eat, are we the better.9 But take heed lest by any means this liberty of yours become a stumblingblock to the weak.10 For if a man see thee who hast knowledge sitting at meat in an idol’s temple, will not his conscience, if he is weak, be emboldened to eat things sacrificed to idols?11 For through thy knowledge he that is weak perisheth, the brother for whose sake Christ died.12 And thus, sinning against the brethren, and wounding their conscience when it is weak, ye sin against Christ.13 Wherefore, if meat causeth my brother to stumble, I will eat no flesh for evermore, that I cause not my brother to stumble.