۱۔تیمتھیس 1
1 یہ خط پولس کی طرف سے ہے جو ہمارے نجات دہندہ اللہ اور ہماری اُمید مسیح عیسیٰ کے حکم پر مسیح عیسیٰ کا رسول ہے۔2 مَیں تیمُتھیُس کو لکھ رہا ہوں جو ایمان میں میرا سچا بیٹا ہے۔ خدا باپ اور ہمارا خداوند مسیح عیسیٰ آپ کو فضل، رحم اور سلامتی عطا کریں۔3 مَیں نے آپ کو مکدُنیہ جاتے وقت نصیحت کی تھی کہ اِفسس میں رہیں تاکہ آپ وہاں کے کچھ لوگوں کو غلط تعلیم دینے سے روکیں۔4 اُنہیں فرضی کہانیوں اور ختم نہ ہونے والے نسب ناموں کے پیچھے نہ لگنے دیں۔ اِن سے محض بحث مباحثہ پیدا ہوتا ہے اور اللہ کا نجات بخش منصوبہ پورا نہیں ہوتا۔ کیونکہ یہ منصوبہ صرف ایمان سے تکمیل تک پہنچتا ہے۔5 میری اِس ہدایت کا مقصد یہ ہے کہ محبت اُبھر آئے، ایسی محبت جو خالص دل، صاف ضمیر اور بےریا ایمان سے پیدا ہوتی ہے۔6 کچھ لوگ اِن چیزوں سے بھٹک کر بےمعنی باتوں میں گم ہو گئے ہیں۔7 یہ شریعت کے اُستاد بننا چاہتے ہیں، لیکن اُنہیں اُن باتوں کی سمجھ نہیں آتی جو وہ کر رہے ہیں اور جن پر وہ اِتنے اعتماد سے اصرار کر رہے ہیں۔8 لیکن ہم تو جانتے ہیں کہ شریعت اچھی ہے بشرطیکہ اِسے صحیح طور پر استعمال کیا جائے۔9 اور یاد رہے کہ یہ راست بازوں کے لئے نہیں دی گئی۔ کیونکہ یہ اُن کے لئے ہے جو بغیر شریعت کے اور سرکش زندگی گزارتے ہیں، جو بےدین اور گناہ گار ہیں، جو مُقدّس اور روحانی باتوں سے خالی ہیں، جو اپنے ماں باپ کے قاتل ہیں، جو خونی،10 زناکار، ہم جنس پرست اور غلاموں کے تاجر ہیں، جو جھوٹ بولتے، جھوٹی قَسم کھاتے اور مزید بہت کچھ کرتے ہیں جو صحت بخش تعلیم کے خلاف ہے۔11 اور صحت بخش تعلیم کیا ہے؟ وہ جو مبارک خدا کی اُس جلالی خوش خبری میں پائی جاتی ہے جو میرے سپرد کی گئی ہے۔12 مَیں اپنے خداوند مسیح عیسیٰ کا شکر کرتا ہوں جس نے میری تقویت کی ہے۔ مَیں اُس کا شکر کرتا ہوں کہ اُس نے مجھے وفادار سمجھ کر خدمت کے لئے مقرر کیا۔13 گو مَیں پہلے کفر بکنے والا اور گستاخ آدمی تھا، جو لوگوں کو ایذا دیتا تھا، لیکن اللہ نے مجھ پر رحم کیا۔ کیونکہ اُس وقت مَیں ایمان نہیں لایا تھا اور اِس لئے نہیں جانتا تھا کہ کیا کر رہا ہوں۔14 ہاں، ہمارے خداوند نے مجھ پر اپنا فضل کثرت سے اُنڈیل دیا اور مجھے وہ ایمان اور محبت عطا کی جو ہمیں مسیح عیسیٰ میں ہوتے ہوئے ملتی ہے۔15 ہم اِس قابلِ قبول بات پر پورا بھروسا رکھ سکتے ہیں کہ مسیح عیسیٰ گناہ گاروں کو نجات دینے کے لئے اِس دنیا میں آیا۔ اُن میں سے مَیں سب سے بڑا گناہ گار ہوں،16 لیکن یہی وجہ ہے کہ اللہ نے مجھ پر رحم کیا۔ کیونکہ وہ چاہتا تھا کہ مسیح عیسیٰ مجھ میں جو اوّل گناہ گار ہوں اپنا وسیع صبر ظاہر کرے اور مَیں یوں اُن کے لئے نمونہ بن جاؤں جو اُس پر ایمان لا کر ابدی زندگی پانے والے ہیں۔17 ہاں، ہمارے ازلی و ابدی شہنشاہ کی ہمیشہ تک عزت و جلال ہو! وہی لافانی، اَن دیکھا اور واحد خدا ہے۔ آمین۔18 تیمُتھیُس میرے بیٹے، مَیں آپ کو یہ ہدایت اُن پیش گوئیوں کے مطابق دیتا ہوں جو پہلے آپ کے بارے میں کی گئی تھیں۔ کیونکہ مَیں چاہتا ہوں کہ آپ اِن کی پیروی کر کے اچھی طرح لڑ سکیں19 اور ایمان اور صاف ضمیر کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ کیونکہ بعض نے یہ باتیں رد کر دی ہیں اور نتیجے میں اُن کے ایمان کا بیڑا غرق ہو گیا۔20 ہمنیُس اور سکندر بھی اِن میں شامل ہیں۔ اب مَیں نے اِنہیں ابلیس کے حوالے کر دیا ہے تاکہ وہ کفر بکنے سے باز آنا سیکھیں۔
1 Timothy 1
1 Paul, an apostle of Christ Jesus according to the commandment of God our Saviour, and Christ Jesus our hope;2 unto Timothy, my true child in faith: Grace, mercy, peace, from God the Father and Christ Jesus our Lord.3 As I exhorted thee to tarry at Ephesus, when I was going into Macedonia, that thou mightest charge certain men not to teach a different doctrine,4 neither to give heed to fables and endless genealogies, which minister questionings, rather than a dispensation of God which is in faith; so do I now.5 But the end of the charge is love out of a pure heart and a good conscience and faith unfeigned:6 from which things some having swerved have turned aside unto vain talking;7 desiring to be teachers of the law, though they understand neither what they say, nor whereof they confidently affirm.8 But we know that the law is good, if a man use it lawfully,9 as knowing this, that law is not made for a righteous man, but for the lawless and unruly, for the ungodly and sinners, for the unholy and profane, for murderers of fathers and murderers of mothers, for manslayers,10 for fornicators, for abusers of themselves with men, for menstealers, for liars, for false swearers, and if there be any other thing contrary to the sound doctrine;11 according to the gospel of the glory of the blessed God, which was committed to my trust.12 I thank him that enabled me, even Christ Jesus our Lord, for that he counted me faithful, appointing me to his service;13 though I was before a blasphemer, and a persecutor, and injurious: howbeit I obtained mercy, because I did it ignorantly in unbelief;14 and the grace of our Lord abounded exceedingly with faith and love which is in Christ Jesus.15 Faithful is the saying, and worthy of all acceptation, that Christ Jesus came into the world to save sinners; of whom I am chief:16 howbeit for this cause I obtained mercy, that in me as chief might Jesus Christ show forth all his longsuffering, for an ensample of them that should thereafter believe on him unto eternal life.17 Now unto the King eternal, immortal, invisible, the only God, be honor and glory forever and ever. Amen.18 This charge I commit unto thee, my child Timothy, according to the prophecies which led the way to thee, that by them thou mayest war the good warfare;19 holding faith and a good conscience; which some having thrust from them made shipwreck concerning the faith:20 of whom is Hymenaeus and Alexander; whom I delivered unto Satan, that they might be taught not to blaspheme.