previous next

۱۔تیمتھیس 6

1 جو بھی غلامی کے جوئے میں ہیں وہ اپنے مالکوں کو پوری عزت کے لائق سمجھیں تاکہ لوگ اللہ کے نام اور ہماری تعلیم پر کفر نہ بکیں۔2 جب مالک ایمان لاتے ہیں تو غلاموں کو اُن کی اِس لئے کم عزت نہیں کرنا چاہئے کہ وہ اب مسیح میں بھائی ہیں۔ بلکہ وہ اُن کی اَور زیادہ خدمت کریں، کیونکہ اب جو اُن کی اچھی خدمت سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں وہ ایمان دار اور عزیز ہیں۔ لازم ہے کہ آپ لوگوں کو اِن باتوں کی تعلیم دیں اور اِس میں اُن کی حوصلہ افزائی کریں۔3 جو بھی اِس سے فرق تعلیم دے کر ہمارے خداوند عیسیٰ مسیح کے صحت بخش الفاظ اور اِس خدا ترس زندگی کی تعلیم سے وابستہ نہیں رہتا4 وہ خود پسندی سے پھولا ہوا ہے اور کچھ نہیں سمجھتا۔ ایسا شخص بحث مباحثہ کرنے اور خالی باتوں پر جھگڑنے میں غیرصحت مند دل چسپی لیتا ہے۔ نتیجے میں حسد، جھگڑے، کفر اور بدگمانی پیدا ہوتی ہے۔5 یہ لوگ آپس میں جھگڑنے کی وجہ سے ہمیشہ کُڑھتے رہتے ہیں۔ اُن کے ذہن بگڑ گئے ہیں اور سچائی اُن سے چھین لی گئی ہے۔ ہاں، یہ سمجھتے ہیں کہ خدا ترس زندگی گزارنے سے مالی نفع حاصل کیا جا سکتا ہے۔6 خدا ترس زندگی واقعی بہت نفع کا باعث ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ انسان کو جو کچھ بھی مل جائے وہ اُس پر اکتفا کر ے۔7 ہم دنیا میں اپنے ساتھ کیا لائے؟ کچھ نہیں! تو ہم دنیا سے نکلتے وقت کیا کچھ ساتھ لے جا سکیں گے؟ کچھ بھی نہیں!8 چنانچہ اگر ہمارے پاس خوراک اور لباس ہو تو یہ ہمارے لئے کافی ہونا چاہئے۔9 جو امیر بننے کے خواہاں رہتے ہیں وہ کئی طرح کی آزمائشوں اور پھندوں میں پھنس جاتے ہیں۔ بہت سی ناسمجھ اور نقصان دہ خواہشات اُنہیں ہلاکت اور تباہی میں غرق ہو جانے دیتی ہیں۔10 کیونکہ پیسوں کا لالچ ہر غلط کام کا سرچشمہ ہے۔ کئی لوگوں نے اِسی لالچ کے باعث ایمان سے بھٹک کر اپنے آپ کو بہت اذیت پہنچائی ہے۔11 لیکن آپ جو اللہ کے بندے ہیں اِن چیزوں سے بھاگتے رہیں۔ اِن کی بجائے راست بازی، خدا ترسی، ایمان، محبت، ثابت قدمی اور نرم دلی کے پیچھے لگے رہیں۔12 ایمان کی اچھی کُشتی لڑیں۔ ابدی زندگی سے خوب لپٹ جائیں، کیونکہ اللہ نے آپ کو یہی زندگی پانے کے لئے بُلایا، اور آپ نے اپنی طرف سے بہت سے گواہوں کے سامنے اِس بات کا اقرار بھی کیا۔13 میرے دو گواہ ہیں، اللہ جو سب کچھ زندہ رکھتا ہے اور مسیح عیسیٰ جس نے پنطیُس پیلاطس کے سامنے اپنے ایمان کی اچھی گواہی دی۔ اِن ہی کے سامنے مَیں آپ کو کہتا ہوں کہ14 یہ حکم یوں پورا کریں کہ آپ پر نہ داغ لگے، نہ الزام۔ اور اِس حکم پر اُس دن تک عمل کرتے رہیں جب تک ہمارا خداوند عیسیٰ مسیح ظاہر نہیں ہو جاتا۔15 کیونکہ اللہ مسیح کو مقررہ وقت پر ظاہر کرے گا۔ ہاں، جو مبارک اور واحد حکمران، بادشاہوں کا بادشاہ اور مالکوں کا مالک ہے وہ اُسے مقررہ وقت پر ظاہر کرے گا۔16 صرف وہی لافانی ہے، وہی ایسی روشنی میں رہتا ہے جس کے قریب کوئی نہیں آ سکتا۔ نہ کسی انسان نے اُسے کبھی دیکھا، نہ وہ اُسے دیکھ سکتا ہے۔ اُس کی عزت اور قدرت ابد تک رہے۔ آمین۔17 جو موجودہ دنیا میں امیر ہیں اُنہیں سمجھائیں کہ وہ مغرور نہ ہوں، نہ دولت جیسی غیریقینی چیز پر اُمید رکھیں۔ اِس کی بجائے وہ اللہ پر اُمید رکھیں جو ہمیں فیاضی سے سب کچھ مہیا کرتا ہے تاکہ ہم اُس سے لطف اندوز ہو جائیں۔18 یہ پیشِ نظر رکھ کر امیر نیک کام کریں اور بھلائی کرنے میں ہی امیر ہوں۔ وہ خوشی سے دوسروں کو دینے اور اپنی دولت میں شریک کرنے کے لئے تیار ہوں۔19 یوں وہ اپنے لئے ایک اچھا خزانہ جمع کریں گے یعنی آنے والے جہان کے لئے ایک ٹھوس بنیاد جس پر کھڑے ہو کر وہ حقیقی زندگی پا سکیں گے۔20 تیمُتھیُس بیٹے، جو کچھ آپ کے حوالے کیا گیا ہے اُسے محفوظ رکھیں۔ دنیاوی بکواس اور اُن متضاد خیالات سے کتراتے رہیں جنہیں غلطی سے علم کا نام دیا گیا ہے۔21 کچھ تو اِس علم کے ماہر ہونے کا دعویٰ کر کے ایمان کی صحیح راہ سے ہٹ گئے ہیں۔ اللہ کا فضل آپ سب کے ساتھ رہے۔

1 Timothy 6

1 Let as many as are servants under the yoke count their own masters worthy of all honor, that the name of God and the doctrine be not blasphemed.2 And they that have believing masters, let them not despise them, because they are brethren; but let them serve them the rather, because they that partake of the benefit are believing and beloved. These things teach and exhort.3 If any man teacheth a different doctrine, and consenteth not to sound words, even the words of our Lord Jesus Christ, and to the doctrine which is according to godliness;4 he is puffed up, knowing nothing, but doting about questionings and disputes of words, whereof cometh envy, strife, railings, evil surmisings,5 wranglings of men corrupted in mind and bereft of the truth, supposing that godliness is a way of gain.6 But godliness with contentment is great gain:7 for we brought nothing into the world, for neither can we carry anything out;8 but having food and covering we shall be therewith content.9 But they that are minded to be rich fall into a temptation and a snare and many foolish and hurtful lusts, such as drown men in destruction and perdition.10 For the love of money is a root of all kinds of evil: which some reaching after have been led astray from the faith, and have pierced themselves through with many sorrows.11 But thou, O man of God, flee these things; and follow after righteousness, godliness, faith, love, patience, meekness.12 Fight the good fight of the faith, lay hold on the life eternal, whereunto thou wast called, and didst confess the good confession in the sight of many witnesses.13 I charge thee in the sight of God, who giveth life to all things, and of Christ Jesus, who before Pontius Pilate witnessed the good confession;14 that thou keep the commandment, without spot, without reproach, until the appearing of our Lord Jesus Christ:15 which in its own times he shall show, who is the blessed and only Potentate, the King of kings, and Lord of lords;16 who only hath immortality, dwelling in light unapproachable; whom no man hath seen, nor can see: to whom be honor and power eternal. Amen.17 Charge them that are rich in this present world, that they be not highminded, nor have their hope set on the uncertainty of riches, but on God, who giveth us richly all things to enjoy;18 that they do good, that they be rich in good works, that they be ready to distribute, willing to communicate;19 laying up in store for themselves a good foundation against the time to come, that they may lay hold on the life which is life indeed.20 O Timothy, guard that which is committed unto thee, turning away from the profane babblings and oppositions of the knowledge which is falsely so called;21 which some professing have erred concerning the faith. Grace be with you.