۲۔کرنتھیوں 1
1 یہ خط پولس کی طرف سے ہے، جو اللہ کی مرضی سے مسیح عیسیٰ کا رسول ہے۔ ساتھ ہی یہ بھائی تیمُتھیُس کی طرف سے بھی ہے۔ مَیں کرِنتھس میں اللہ کی جماعت اور صوبہ اخیہ میں موجود تمام مُقدّسین کو یہ لکھ رہا ہوں۔2 خدا ہمارا باپ اور خداوند عیسیٰ مسیح آپ کو فضل اور سلامتی عطا کریں۔3 ہمارے خداوند عیسیٰ مسیح کے خدا اور باپ کی تمجید ہو، جو رحم کا باپ اور تمام طرح کی تسلی کا خدا ہے۔4 جب بھی ہم مصیبت میں پھنس جاتے ہیں تو وہ ہمیں تسلی دیتا ہے تاکہ ہم اَوروں کو بھی تسلی دے سکیں۔ پھر جب وہ کسی مصیبت سے دوچار ہوتے ہیں تو ہم بھی اُن کو اُسی طرح تسلی دے سکتے ہیں جس طرح اللہ نے ہمیں تسلی دی ہے۔5 کیونکہ جتنی کثرت سے مسیح کی سی مصیبتیں ہم پر آ جاتی ہیں اُتنی کثرت سے اللہ مسیح کے ذریعے ہمیں تسلی دیتا ہے۔6 جب ہم مصیبتوں سے دوچار ہوتے ہیں تو یہ بات آپ کی تسلی اور نجات کا باعث بنتی ہے۔ جب ہماری تسلی ہوتی ہے تو یہ آپ کی بھی تسلی کا باعث بنتی ہے۔ یوں آپ بھی صبر سے وہ کچھ برداشت کرنے کے قابل بن جاتے ہیں جو ہم برداشت کر رہے ہیں۔7 چنانچہ ہماری آپ کے بارے میں اُمید پختہ رہتی ہے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جس طرح آپ ہماری مصیبتوں میں شریک ہیں اُسی طرح آپ اُس تسلی میں بھی شریک ہیں جو ہمیں حاصل ہوتی ہے۔8 بھائیو، ہم آپ کو اُس مصیبت سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں جس میں ہم صوبہ آسیہ میں پھنس گئے۔ ہم پر دباؤ اِتنا شدید تھا کہ اُسے برداشت کرنا ناممکن سا ہو گیا اور ہم جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔9 ہم نے محسوس کیا کہ ہمیں سزائے موت دی گئی ہے۔ لیکن یہ اِس لئے ہوا تاکہ ہم اپنے آپ پر بھروسا نہ کریں بلکہ اللہ پر جو مُردوں کو زندہ کر دیتا ہے۔10 اُسی نے ہمیں ایسی ہیبت ناک موت سے بچایا اور وہ آئندہ بھی ہمیں بچائے گا۔ اور ہم نے اُس پر اُمید رکھی ہے کہ وہ ہمیں ایک بار پھر بچائے گا۔11 آپ بھی اپنی دعاؤں سے ہماری مدد کر رہے ہیں۔ یہ کتنی خوب صورت بات ہے کہ اللہ بہتوں کی دعاؤں کو سن کر ہم پر مہربانی کرے گا اور نتیجے میں بہتیرے ہمارے لئے شکر کریں گے۔12 یہ بات ہمارے لئے فخر کا باعث ہے کہ ہمارا ضمیر صاف ہے۔ کیونکہ ہم نے اللہ کے سامنے سادہ دلی اور خلوص سے زندگی گزاری ہے، اور ہم نے اپنی انسانی حکمت پر انحصار نہیں کیا بلکہ اللہ کے فضل پر۔ دنیا میں اور خاص کر آپ کے ساتھ ہمارا رویہ ایسا ہی رہا ہے۔13 ہم تو آپ کو ایسی کوئی بات نہیں لکھتے جو آپ پڑھ یا سمجھ نہیں سکتے۔ اور مجھے اُمید ہے کہ آپ کو پورے طور پر سمجھ آئے گی،14 اگرچہ آپ فی الحال سب کچھ نہیں سمجھتے۔ کیونکہ جب آپ کو سب کچھ سمجھ آئے گا تب آپ خداوند عیسیٰ کے دن ہم پر اُتنا فخر کر سکیں گے جتنا ہم آپ پر۔15 چونکہ مجھے اِس کا پورا یقین تھا اِس لئے مَیں پہلے آپ کے پاس آنا چاہتا تھا تاکہ آپ کو دُگنی برکت مل جائے۔16 خیال یہ تھا کہ مَیں آپ کے ہاں سے ہو کر مکدُنیہ جاؤں اور وہاں سے آپ کے پاس واپس آؤں۔ پھر آپ صوبہ یہودیہ کے سفر کے لئے تیاریاں کرنے میں میری مدد کر کے مجھے آگے بھیج سکتے تھے۔17 آپ مجھے بتائیں کہ کیا مَیں نے یہ منصوبہ یوں ہی بنایا تھا؟ کیا مَیں دنیاوی لوگوں کی طرح منصوبے بنا لیتا ہوں جو ایک ہی لمحے میں ”جی ہاں“ اور ”جی نہیں“ کہتے ہیں؟18 لیکن اللہ وفادار ہے اور وہ میرا گواہ ہے کہ ہم آپ کے ساتھ بات کرتے وقت ”نہیں“ کو ”ہاں“ کے ساتھ نہیں ملاتے۔19 کیونکہ اللہ کا فرزند عیسیٰ مسیح جس کی منادی مَیں، سیلاس اور تیمُتھیُس نے کی وہ بھی ایسا نہیں ہے۔ اُس نے کبھی بھی ”ہاں“ کو ”نہیں“ کے ساتھ نہیں ملایا بلکہ اُس میں اللہ کی حتمی ”جی ہاں“ وجود میں آئی۔20 کیونکہ وہی اللہ کے تمام وعدوں کی ”ہاں“ ہے۔ اِس لئے ہم اُسی کے وسیلے سے ”آمین“ (جی ہاں) کہہ کر اللہ کو جلال دیتے ہیں۔21 اور اللہ خود ہمیں اور آپ کو مسیح میں مضبوط کر دیتا ہے۔ اُسی نے ہمیں مسح کر کے مخصوص کیا ہے۔22 اُسی نے ہم پر اپنی مُہر لگا کر ظاہر کیا ہے کہ ہم اُس کی ملکیت ہیں اور اُسی نے ہمیں روح القدس دے کر اپنے وعدوں کا بیعانہ ادا کیا ہے۔23 اگر مَیں جھوٹ بولوں تو اللہ میرے خلاف گواہی دے۔ بات یہ ہے کہ مَیں آپ کو بچانے کے لئے کرِنتھس واپس نہ آیا۔24 مطلب یہ نہیں کہ ہم ایمان کے معاملے میں آپ پر حکومت کرنا چاہتے ہیں۔ نہیں، ہم آپ کے ساتھ مل کر خدمت کرتے ہیں تاکہ آپ خوشی سے بھر جائیں، کیونکہ آپ تو ایمان کی معرفت قائم ہیں۔
2 Corinthians 1
1 Paul, an apostle of Christ Jesus through the will of God, and Timothy our brother, unto the church of God which is at Corinth, with all the saints that are in the whole of Achaia:2 Grace to you and peace from God our Father and the Lord Jesus Christ.3 Blessed be the God and Father of our Lord Jesus Christ, the Father of mercies and God of all comfort;4 who comforteth us in all our affliction, that we may be able to comfort them that are in any affliction, through the comfort wherewith we ourselves are comforted of God.5 For as the sufferings of Christ abound unto us, even so our comfort also aboundeth through Christ.6 But whether we are afflicted, it is for your comfort and salvation; or whether we are comforted, it is for your comfort, which worketh in the patient enduring of the same sufferings which we also suffer:7 and our hope for you is stedfast; knowing that, as ye are partakers of the sufferings, so also are ye of the comfort.8 For we would not have you ignorant, brethren, concerning our affliction which befell us in Asia, that we were weighed down exceedingly, beyond our power, insomuch that we despaired even of life:9 yea, we ourselves have had the sentence of death within ourselves, that we should not trust in ourselves, but in God who raiseth the dead:10 who delivered us out of so great a death, and will deliver: on whom we have set our hope that he will also still deliver us;11 ye also helping together on our behalf by your supplication; that, for the gift bestowed upon us by means of many, thanks may be given by many persons on our behalf.12 For our glorifying is this, the testimony of our conscience, that in holiness and sincerity of God, not in fleshly wisdom but in the grace of God, we behaved ourselves in the world, and more abundantly to you-ward.13 For we write no other things unto you, than what ye read or even acknowledge, and I hope ye will acknowledge unto the end:14 as also ye did acknowledge us in part, that we are your glorying, even as ye also are ours, in the day of our Lord Jesus.15 And in this confidence I was minded to come first unto you, that ye might have a second benefit;16 and by you to pass into Macedonia, and again from Macedonia to come unto you, and of you to be set forward on my journey unto Judaea.17 When I therefore was thus minded, did I show fickleness? or the things that I purpose, do I purpose according to the flesh, that with me there should be the yea yea and the nay nay?18 But as God is faithful, our word toward you is not yea and nay.19 For the Son of God, Jesus Christ, who was preached among you by us, even by me and Silvanus and Timothy, was not yea and nay, but in him is yea.20 For how many soever be the promises of God, in him is the yea: wherefore also through him is the Amen, unto the glory of God through us.21 Now he that establisheth us with you in Christ, and anointed us, is God;22 who also sealed us, and gave us the earnest of the Spirit in our hearts.23 But I call God for a witness upon my soul, that to spare you I forbare to come unto Corinth.24 Not that we have lordship over your faith, but are helpers of your joy: for in faith ye stand fast.