۲۔کرنتھیوں 5
1 ہم تو جانتے ہیں کہ جب ہماری دنیاوی جھونپڑی جس میں ہم رہتے ہیں گرائی جائے گی تو اللہ ہمیں آسمان پر ایک مکان دے گا، ایک ایسا ابدی گھر جسے انسانی ہاتھوں نے نہیں بنایا ہو گا۔2 اِس لئے ہم اِس جھونپڑی میں کراہتے ہیں اور آسمانی گھر پہن لینے کی شدید آرزو رکھتے ہیں،3 کیونکہ جب ہم اُسے پہن لیں گے تو ہم ننگے نہیں پائے جائیں گے۔4 اِس جھونپڑی میں رہتے ہوئے ہم بوجھ تلے کراہتے ہیں۔ کیونکہ ہم اپنا فانی لباس اُتارنا نہیں چاہتے بلکہ اُس پر آسمانی گھر کا لباس پہن لینا چاہتے ہیں تاکہ زندگی وہ کچھ نگل جائے جو فانی ہے۔5 اللہ نے خود ہمیں اِس مقصد کے لئے تیار کیا ہے اور اُسی نے ہمیں روح القدس کو آنے والے جلال کے بیعانے کے طور پر دے دیا ہے۔6 چنانچہ ہم ہمیشہ حوصلہ رکھتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ جب تک اپنے بدن میں رہائش پذیر ہیں اُس وقت تک خداوند کے گھر سے دُور ہیں۔7 ہم ظاہری چیزوں پر بھروسا نہیں کرتے بلکہ ایمان پر چلتے ہیں۔8 ہاں، ہمارا حوصلہ بلند ہے بلکہ ہم زیادہ یہ چاہتے ہیں کہ اپنے جسمانی گھر سے روانہ ہو کر خداوند کے گھر میں رہیں۔9 لیکن خواہ ہم اپنے بدن میں ہوں یا نہ، ہم اِسی کوشش میں رہتے ہیں کہ خداوند کو پسند آئیں۔10 کیونکہ لازم ہے کہ ہم سب مسیح کے تختِ عدالت کے سامنے حاضر ہو جائیں۔ وہاں ہر ایک کو اُس کام کا اجر ملے گا جو اُس نے اپنے بدن میں رہتے ہوئے کیا ہے، خواہ وہ اچھا تھا یا بُرا۔11 اب ہم خداوند کے خوف کو جان کر لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم تو اللہ کے سامنے پورے طور پر ظاہر ہیں۔ اور مَیں اُمید رکھتا ہوں کہ ہم آپ کے ضمیر کے سامنے بھی ظاہر ہیں۔12 کیا ہم یہ بات کر کے دوبارہ اپنی سفارش کر رہے ہیں؟ نہیں، آپ کو ہم پر فخر کرنے کا موقع دے رہے ہیں تاکہ آپ اُن کے جواب میں کچھ کہہ سکیں جو ظاہری باتوں پر شیخی مارتے اور دلی باتیں نظرانداز کرتے ہیں۔13 کیونکہ اگر ہم بےخود ہوئے تو اللہ کی خاطر، اور اگر ہوش میں ہیں تو آپ کی خاطر۔14 بات یہ ہے کہ مسیح کی محبت ہمیں مجبور کر دیتی ہے، کیونکہ ہم اِس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ ایک سب کے لئے مُوا۔ اِس کا مطلب ہے کہ سب ہی مر گئے ہیں۔15 اور وہ سب کے لئے اِس لئے مُوا تاکہ جو زندہ ہیں وہ اپنے لئے نہ جئیں بلکہ اُس کے لئے جو اُن کی خاطر مُوا اور پھر جی اُٹھا۔16 اِس وجہ سے ہم اب سے کسی کو بھی دنیاوی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ پہلے تو ہم مسیح کو بھی اِس زاویے سے دیکھتے تھے، لیکن یہ وقت گزر گیا ہے۔17 چنانچہ جو مسیح میں ہے وہ نیا مخلوق ہے۔ پرانی زندگی جاتی رہی اور نئی زندگی شروع ہو گئی ہے۔18 یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے جس نے مسیح کے وسیلے سے اپنے ساتھ ہمارا میل ملاپ کر لیا ہے۔ اور اُسی نے ہمیں میل ملاپ کرانے کی خدمت کی ذمہ داری دی ہے۔19 اِس خدمت کے تحت ہم یہ پیغام سناتے ہیں کہ اللہ نے مسیح کے وسیلے سے اپنے ساتھ دنیا کی صلح کرائی اور لوگوں کے گناہوں کو اُن کے ذمے نہ لگایا۔ صلح کرانے کا یہ پیغام اُس نے ہمارے سپرد کر دیا۔20 پس ہم مسیح کے ایلچی ہیں اور اللہ ہمارے وسیلے سے لوگوں کو سمجھاتا ہے۔ ہم مسیح کے واسطے آپ سے منت کرتے ہیں کہ اللہ کی صلح کی پیش کش کو قبول کریں تاکہ اُس کی آپ کے ساتھ صلح ہو جائے۔21 مسیح بےگناہ تھا، لیکن اللہ نے اُسے ہماری خاطر گناہ ٹھہرایا تاکہ ہمیں اُس میں راست باز قرار دیا جائے۔
2 Corinthians 5
1 For we know that if the earthly house of our tabernacle be dissolved, we have a building from God, a house not made with hands, eternal, in the heavens.2 For verily in this we groan, longing to be clothed upon with our habitation which is from heaven:3 if so be that being clothed we shall not be found naked.4 For indeed we that are in this tabernacle do groan, being burdened; not for that we would be unclothed, but that we would be clothed upon, that what is mortal may be swallowed up of life.5 Now he that wrought us for this very thing is God, who gave unto us the earnest of the Spirit.6 Being therefore always of good courage, and knowing that, whilst we are at home in the body, we are absent from the Lord7 (for we walk by faith, not by sight);8 we are of good courage, I say, and are willing rather to be absent from the body, and to be at home with the Lord.9 Wherefore also we make it our aim, whether at home or absent, to be well-pleasing unto him.10 For we must all be made manifest before the judgment-seat of Christ; that each one may receive the things done in the body, according to what he hath done, whether it be good or bad.11 Knowing therefore the fear of the Lord, we persuade men, but we are made manifest unto God; and I hope that we are made manifest also in your consciences.12 We are not again commending ourselves unto you, but speak as giving you occasion of glorying on our behalf, that ye may have wherewith to answer them that glory in appearance, and not in heart.13 For whether we are beside ourselves, it is unto God; or whether we are of sober mind, it is unto you.14 For the love of Christ constraineth us; because we thus judge, that one died for all, therefore all died;15 and he died for all, that they that live should no longer live unto themselves, but unto him who for their sakes died and rose again.16 Wherefore we henceforth know no man after the flesh: even though we have known Christ after the flesh, yet now we know him so no more.17 Wherefore if any man is in Christ, he is a new creature: the old things are passed away; behold, they are become new.18 But all things are of God, who reconciled us to himself through Christ, and gave unto us the ministry of reconciliation;19 to wit, that God was in Christ reconciling the world unto himself, not reckoning unto them their trespasses, and having committed unto us the word of reconciliation.20 We are ambassadors therefore on behalf of Christ, as though God were entreating by us: we beseech you on behalf of Christ, be ye reconciled to God.21 Him who knew no sin he made to be sin on our behalf; that we might become the righteousness of God in him.