۲۔پطرس 1
1 یہ خط عیسیٰ مسیح کے خادم اور رسول شمعون پطرس کی طرف سے ہے۔ مَیں اُن سب کو لکھ رہا ہوں جنہیں ہمارے خدا اور نجات دہندہ عیسیٰ مسیح کی راست بازی کے وسیلے سے وہی بیش قیمت ایمان بخشا گیا ہے جو ہمیں بھی ملا۔2 خدا کرے کہ آپ اُسے اور ہمارے خداوند عیسیٰ کو جاننے میں ترقی کرتے کرتے کثرت سے فضل اور سلامتی پاتے جائیں۔3 اللہ نے اپنی الٰہی قدرت سے ہمیں وہ سب کچھ عطا کیا ہے جو خدا ترس زندگی گزارنے کے لئے ضروری ہے۔ اور ہمیں یہ اُسے جان لینے سے حاصل ہوا ہے۔ کیونکہ اُس نے ہمیں اپنے ذاتی جلال اور قدرت کے ذریعے بُلایا ہے۔4 اِس جلال اور قدرت سے اُس نے ہمیں وہ عظیم اور بیش قیمت چیزیں دی ہیں جن کا وعدہ اُس نے کیا تھا۔ کیونکہ وہ چاہتا تھا کہ آپ اِن سے دنیا کی بُری خواہشات سے پیدا ہونے والے فساد سے بچ کر اُس کی الٰہی ذات میں شریک ہو جائیں۔5 یہ سب کچھ پیشِ نظر رکھ کر پوری لگن سے کوشش کریں کہ آپ کے ایمان سے اخلاق پیدا ہو جائے، اخلاق سے علم،6 علم سے ضبطِ نفس، ضبطِ نفس سے ثابت قدمی، ثابت قدمی سے خدا ترس زندگی،7 خدا ترس زندگی سے برادرانہ شفقت اور برادرانہ شفقت سے سب کے لئے محبت۔8 کیونکہ جتنا ہی آپ اِن خوبیوں میں بڑھتے جائیں گے اُتنا ہی یہ آپ کو اِس سے محفوظ رکھیں گی کہ آپ ہمارے خداوند عیسیٰ مسیح کو جاننے میں سُست اور بےپھل رہیں۔9 لیکن جس میں یہ خوبیاں نہیں ہیں اُس کی نظر اِتنی کمزور ہے کہ وہ اندھا ہے۔ وہ بھول گیا ہے کہ اُسے اُس کے گزرے گناہوں سے پاک صاف کیا گیا ہے۔10 چنانچہ بھائیو، مزید لگن سے اپنے بلاوے اور چناؤ کی تصدیق کرنے میں کوشاں رہیں۔ کیونکہ یہ کرنے سے آپ گر جانے سے بچیں گے11 اور اللہ بڑی خوشی سے آپ کو ہمارے خداوند اور نجات دہندہ عیسیٰ مسیح کی بادشاہی میں داخل ہونے کی اجازت دے گا۔12 اِس لئے مَیں ہمیشہ آپ کو اِن باتوں کی یاد دلاتا رہوں گا، حالانکہ آپ اِن سے واقف ہیں اور مضبوطی سے اُس سچائی پر قائم ہیں جو آپ کو ملی ہے۔13 بلکہ مَیں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ جتنی اَور دیر مَیں جسم کی اِس جھونپڑی میں رہتا ہوں آپ کو اِن باتوں کی یاد دلانے سے اُبھارتا رہوں۔14 کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ اب میری یہ جھونپڑی جلد ہی ڈھا دی جائے گی۔ ہمارے خداوند عیسیٰ مسیح نے بھی مجھ پر یہ ظاہر کیا تھا۔15 لیکن مَیں پوری کوشش کروں گا کہ میرے کوچ کر جانے کے بعد بھی آپ ہر وقت اِن باتوں کو یاد رکھ سکیں۔16 کیونکہ جب ہم نے آپ کو اپنے اور آپ کے خداوند مسیح کی قدرت اور آمد کے بارے میں بتایا تو ہم چالاکی سے گھڑے قصے کہانیوں پر انحصار نہیں کر رہے تھے بلکہ ہم نے یہ گواہوں کی حیثیت سے بتایا۔ کیونکہ ہم نے اپنی ہی آنکھوں سے اُس کی عظمت دیکھی تھی۔17 ہم موجود تھے جب اُسے خدا باپ سے عزت و جلال ملا، جب ایک آواز نے اللہ کی پُرجلال شان سے آ کر کہا، ”یہ میرا پیارا فرزند ہے جس سے مَیں خوش ہوں۔“18 جب ہم اُس کے ساتھ مُقدّس پہاڑ پر تھے تو ہم نے خود یہ آواز آسمان سے آتی سنی۔19 اِس تجربے کی بنا پر ہمارا نبیوں کے پیغام پر اعتماد زیادہ مضبوط ہے۔ آپ اچھا کریں گے اگر اِس پر خوب دھیان دیں۔ کیونکہ یہ کسی تاریک جگہ میں روشنی کی مانند ہے جو اُس وقت تک چمکتی رہے گی جب تک پَو پھٹ کر صبح کا ستارہ آپ کے دلوں میں طلوع نہ ہو جائے۔20 سب سے بڑھ کر آپ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کلامِ مُقدّس کی کوئی بھی پیش گوئی نبی کی اپنی ہی تفسیر سے پیدا نہیں ہوتی۔21 کیونکہ کوئی بھی پیش گوئی کبھی بھی انسان کی تحریک سے وجود میں نہیں آئی بلکہ پیش گوئی کرتے وقت انسانوں نے روح القدس سے تحریک پا کر اللہ کی طرف سے بات کی۔
2 Peter 1
1 Simon Peter, a servant and apostle of Jesus Christ, to them that have obtained a like precious faith with us in the righteousness of our God and the Saviour Jesus Christ:2 Grace to you and peace be multiplied in the knowledge of God and of Jesus our Lord;3 seeing that his divine power hath granted unto us all things that pertain unto life and godliness, through the knowledge of him that called us by his own glory and virtue;4 whereby he hath granted unto us his precious and exceeding great promises; that through these ye may become partakers of the divine nature, having escaped from the corruption that is in that world by lust.5 Yea, and for this very cause adding on your part all diligence, in your faith supply virtue; and in your virtue knowledge;6 and in your knowledge self-control; and in your self-control patience; and in your patience godliness;7 and in your godliness brotherly kindness; and in your brotherly kindness love.8 For if these things are yours and abound, they make you to be not idle nor unfruitful unto the knowledge of our Lord Jesus Christ.9 For he that lacketh these things is blind, seeing only what is near, having forgotten the cleansing from his old sins.10 Wherefore, brethren, give the more diligence to make your calling and election sure: for if ye do these things, ye shall never stumble:11 for thus shall be richly supplied unto you the entrance into the eternal kingdom of our Lord and Saviour Jesus Christ.12 Wherefore I shall be ready always to put you in remembrance of these things, though ye know them, and are established in the truth which is with you.13 And I think it right, as long as I am in this tabernacle, to stir you up by putting you in remembrance;14 knowing that the putting off of my tabernacle cometh swiftly, even as our Lord Jesus Christ signified unto me.15 Yea, I will give diligence that at every time ye may be able after my decease to call these things to remembrance.16 For we did not follow cunningly devised fables, when we made known unto you the power and coming of our Lord Jesus Christ, but we were eyewitnesses of his majesty.17 For he received from God the Father honor and glory, when there was borne such a voice to him by the Majestic Glory, This is my beloved Son, in whom I am well pleased:18 and this voice we ourselves heard borne out of heaven, when we were with him in the holy mount.19 And we have the word of prophecy made more sure; whereunto ye do well that ye take heed, as unto a lamp shining in a dark place, until the day dawn, and the day-star arise in your hearts:20 knowing this first, that no prophecy of scripture is of private interpretation.21 For no prophecy ever came by the will of man: but men spake from God, being moved by the Holy Spirit.