۲۔تیمتھیس 2
1 لیکن آپ، میرے بیٹے، اُس فضل سے تقویت پائیں جو آپ کو مسیح عیسیٰ میں مل گیا ہے۔2 جو کچھ آپ نے بہت گواہوں کی موجودگی میں مجھ سے سنا ہے اُسے معتبر لوگوں کے سپرد کریں۔ یہ ایسے لوگ ہوں جو اَوروں کو سکھانے کے قابل ہوں۔3 مسیح عیسیٰ کے اچھے سپاہی کی طرح ہمارے ساتھ دُکھ اُٹھاتے رہیں۔4 جس سپاہی کی ڈیوٹی ہے وہ عام رعایا کے معاملات میں پھنسنے سے باز رہتا ہے، کیونکہ وہ اپنے افسر کو پسند آنا چاہتا ہے۔5 اِسی طرح کھیل کے مقابلے میں حصہ لینے والے کو صرف اِس صورت میں انعام مل سکتا ہے کہ وہ قواعد کے مطابق ہی مقابلہ کرے۔6 اور لازم ہے کہ فصل کی کٹائی کے وقت پہلے اُس کو فصل کا حصہ ملے جس نے کھیت میں محنت کی ہے۔7 اُس پر دھیان دینا جو مَیں آپ کو بتا رہا ہوں، کیونکہ خداوند آپ کو اِن تمام باتوں کی سمجھ عطا کرے گا۔8 مسیح عیسیٰ کو یاد رکھیں، جو داؤد کی اولاد میں سے ہے اور جسے مُردوں میں سے زندہ کر دیا گیا۔ یہی میری خوش خبری ہے9 جس کی خاطر مَیں دُکھ اُٹھا رہا ہوں، یہاں تک کہ مجھے عام مجرم کی طرح زنجیروں سے باندھا گیا ہے۔ لیکن اللہ کا کلام زنجیروں سے باندھا نہیں جا سکتا۔10 اِس لئے مَیں سب کچھ اللہ کے چنے ہوئے لوگوں کی خاطر برداشت کرتا ہوں تاکہ وہ بھی نجات پائیں — وہ نجات جو مسیح عیسیٰ سے ملتی ہے اور جو ابدی جلال کا باعث بنتی ہے۔11 یہ قول قابلِ اعتماد ہے، اگر ہم اُس کے ساتھ مر گئے تو ہم اُس کے ساتھ جئیں گے بھی۔12 اگر ہم برداشت کرتے رہیں تو ہم اُس کے ساتھ حکومت بھی کریں گے۔ اگر ہم اُسے جاننے سے انکار کریں تو وہ بھی ہمیں جاننے سے انکار کرے گا۔13 اگر ہم بےوفا نکلیں توبھی وہ وفادار رہے گا۔ کیونکہ وہ اپنا انکار نہیں کر سکتا۔14 لوگوں کو اِن باتوں کی یاد دلاتے رہیں اور اُنہیں سنجیدگی سے اللہ کے حضور سمجھائیں کہ وہ بال کی کھال اُتار کر ایک دوسرے سے نہ جھگڑیں۔ یہ بےفائدہ ہے بلکہ سننے والوں کو بگاڑ دیتا ہے۔15 اپنے آپ کو اللہ کے سامنے یوں پیش کرنے کی پوری کوشش کریں کہ آپ مقبول ثابت ہوں، کہ آپ ایسا مزدور نکلیں جسے اپنے کام سے شرمانے کی ضرورت نہ ہو بلکہ جو صحیح طور پر اللہ کا سچا کلام پیش کرے۔16 دنیاوی بکواس سے باز رہیں۔ کیونکہ جتنا یہ لوگ اِس میں پھنس جائیں گے اُتنا ہی بےدینی کا اثر بڑھے گا17 اور اُن کی تعلیم کینسر کی طرح پھیل جائے گی۔ اِن لوگوں میں ہمنیُس اور فلیتس بھی شامل ہیں18 جو سچائی سے ہٹ گئے ہیں۔ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مُردوں کے جی اُٹھنے کا عمل ہو چکا ہے اور یوں بعض ایک کا ایمان تباہ ہو گیا ہے۔19 لیکن اللہ کی ٹھوس بنیاد قائم رہتی ہے اور اُس پر اِن دو باتوں کی مُہر لگی ہے، ”خداوند نے اپنے لوگوں کو جان لیا ہے“ اور ”جو بھی سمجھے کہ مَیں خداوند کا پیروکار ہوں وہ ناراستی سے باز رہے۔“20 بڑے گھروں میں نہ صرف سونے اور چاندی کے برتن ہوتے ہیں بلکہ لکڑی اور مٹی کے بھی۔ یعنی کچھ شریف کاموں کے لئے استعمال ہوتے ہیں اور کچھ کم قدر کاموں کے لئے۔21 اگر کوئی اپنے آپ کو اِن بُری چیزوں سے پاک صاف کرے تو وہ شریف کاموں کے لئے استعمال ہونے والا برتن ہو گا۔ وہ مخصوص و مُقدّس، مالک کے لئے مفید اور ہر نیک کام کے لئے تیار ہو گا۔22 جوانی کی بُری خواہشات سے بھاگ کر راست بازی، ایمان، محبت اور صلح سلامتی کے پیچھے لگے رہیں۔ اور یہ اُن کے ساتھ مل کر کریں جو خلوص دلی سے خداوند کی پرستش کرتے ہیں۔23 حماقت اور جہالت کی بحثوں سے کنارہ کریں۔ آپ تو جانتے ہیں کہ اِن سے صرف جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔24 لازم ہے کہ خداوند کا خادم نہ جھگڑے بلکہ ہر ایک سے مہربانی کا سلوک کرے۔ وہ تعلیم دینے کے قابل ہو اور صبر سے غلط سلوک برداشت کرے۔25 جو مخالفت کرتے ہیں اُنہیں وہ نرم دلی سے تربیت دے، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اللہ اُنہیں توبہ کرنے کی توفیق دے اور وہ سچائی کو جان لیں،26 ہوش میں آئیں اور ابلیس کے پھندے سے بچ نکلیں۔ کیونکہ ابلیس نے اُنہیں قید کر لیا ہے تاکہ وہ اُس کی مرضی پوری کریں۔
2 Timothy 2
1 Thou therefore, my child, be strengthened in the grace that is in Christ Jesus.2 And the things which thou hast heard from me among many witnesses, the same commit thou to faithful men, who shall be able to teach others also.3 Suffer hardship with me, as a good soldier of Christ Jesus.4 No soldier on service entangleth himself in the affairs of this life; that he may please him who enrolled him as a soldier.5 And if also a man contend in the games, he is not crowned, except he have contended lawfully.6 The husbandmen that laboreth must be the first to partake of the fruits.7 Consider what I say; for the Lord shall give thee understanding in all things.8 Remember Jesus Christ, risen from the dead, of the seed of David, according to my gospel:9 wherein I suffer hardship unto bonds, as a malefactor; but the word of God is not bound.10 Therefore I endure all things for the elect’s sake, that they also may obtain the salvation which is in Christ Jesus with eternal glory.11 Faithful is the saying: For if we died with him, we shall also live with him:12 if we endure, we shall also reign with him: if we shall deny him, he also will deny us:13 if we are faithless, he abideth faithful; for he cannot deny himself.14 Of these things put them in remembrance, charging them in the sight of the Lord, that they strive not about words, to no profit, to the subverting of them that hear.15 Give diligence to present thyself approved unto God, a workman that needeth not to be ashamed, handling aright the word of truth.16 But shun profane babblings: for they will proceed further in ungodliness,17 and their word will eat as doth a gangrene: of whom is Hymenaeus an Philetus;18 men who concerning the truth have erred, saying that the resurrection is past already, and overthrow the faith of some.19 Howbeit the firm foundation of God standeth, having this seal, The Lord knoweth them that are his: and, Let every one that nameth the name of the Lord depart from unrighteousness.20 Now in a great house there are not only vessels of gold and of silver, but also of wood and of earth; and some unto honor, and some unto dishonor.21 If a man therefore purge himself from these, he shall be a vessel unto honor, sanctified, meet for the master’s use, prepared unto every good work.22 after righteousness, faith, love, peace, with them that call on the Lord out of a pure heart.23 But foolish and ignorant questionings refuse, knowing that they gender strifes.24 And the Lord’s servant must not strive, but be gentle towards all, apt to teach, forbearing,25 in meekness correcting them that oppose themselves; if peradventure God may give them repentance unto the knowledge of the truth,26 and they may recover themselves out of the snare of the devil, having been taken captive by him unto his will.