previous next

۳۔یوحنا 1

1 یہ خط بزرگ یوحنا کی طرف سے ہے۔ مَیں اپنے عزیز گیُس کو لکھ رہا ہوں جسے مَیں سچائی سے پیار کرتا ہوں۔2 میرے عزیز، میری دعا ہے کہ آپ کا حال ہر طرح سے ٹھیک ہو اور آپ جسمانی طور پر اُتنے ہی تندرست ہوں جتنے آپ روحانی لحاظ سے ہیں۔3 کیونکہ مَیں نہایت خوش ہوا جب بھائیوں نے آ کر گواہی دی کہ آپ کس طرح سچائی کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ اور یقیناً آپ ہمیشہ سچائی کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔4 جب مَیں سنتا ہوں کہ میرے بچے سچائی کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں تو یہ میرے لئے سب سے زیادہ خوشی کا باعث ہوتا ہے۔5 میرے عزیز، جو کچھ آپ بھائیوں کے لئے کر رہے ہیں اُس میں آپ وفاداری دکھا رہے ہیں، حالانکہ وہ آپ کے جاننے والے نہیں ہیں۔6 اُنہوں نے خدا کی جماعت کے سامنے ہی آپ کی محبت کی گواہی دی ہے۔ مہربانی کر کے اُن کی سفر کے لئے یوں مدد کریں کہ اللہ خوش ہو۔7 کیونکہ وہ مسیح کے نام کی خاطر سفر کے لئے نکلے ہیں اور غیرایمان داروں سے مدد نہیں لیتے۔8 چنانچہ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ایسے لوگوں کی مہمان نوازی کریں، کیونکہ یوں ہم بھی سچائی کے ہم خدمت بن جاتے ہیں۔9 مَیں نے تو جماعت کو کچھ لکھ دیا تھا، لیکن دیترفیس جو اُن میں اوّل ہونے کی خواہش رکھتا ہے ہمیں قبول نہیں کرتا۔10 چنانچہ مَیں جب آؤں گا تو اُسے اُن بُری حرکتوں کی یاد دلاؤں گا جو وہ کر رہا ہے، کیونکہ وہ ہمارے خلاف بُری باتیں بک رہا ہے۔ اور نہ صرف یہ بلکہ وہ بھائیوں کو خوش آمدید کہنے سے بھی انکار کرتا ہے۔ جب دوسرے یہ کرنا چاہتے ہیں تو وہ اُنہیں روک کر جماعت سے نکال دیتا ہے۔11 میرے عزیز، جو بُرا ہے اُس کی نقل مت کرنا بلکہ اُس کی کرنا جو اچھا ہے۔ جو اچھا کام کرتا ہے وہ اللہ سے ہے۔ لیکن جو بُرا کام کرتا ہے اُس نے اللہ کو نہیں دیکھا۔12 سب لوگ دیمیتریُس کی اچھی گواہی دیتے ہیں بلکہ سچائی خود بھی اُس کی اچھی گواہی دیتی ہے۔ ہم بھی اِس کے گواہ ہیں، اور آپ جانتے ہیں کہ ہماری گواہی سچی ہے۔13 مجھے آپ کو بہت کچھ لکھنا تھا، لیکن یہ ایسی باتیں ہیں جو مَیں قلم اور سیاہی کے ذریعے آپ کو نہیں بتا سکتا۔14 مَیں جلد ہی آپ سے ملنے کی اُمید رکھتا ہوں۔ پھر ہم رُوبرُو بات کریں گے۔15 سلامتی آپ کے ساتھ ہوتی رہے۔ یہاں کے دوست آپ کو سلام کہتے ہیں۔ وہاں کے ہر دوست کو شخصی طور پر ہمارا سلام دیں۔

3 John 1

1 The elder unto Gaius the beloved, whom I love in truth.2 Beloved, I pray that in all things thou mayest prosper and be in health, even as thy soul prospereth.3 For I rejoiced greatly, when brethren came and bare witness unto thy truth, even as thou walkest in truth.4 Greater joy have I none than this, to hear of my children walking in the truth.5 Beloved, thou doest a faithful work in whatsoever thou doest toward them that are brethren and strangers withal;6 who bare witness to thy love before the church: whom thou wilt do well to set forward on their journey worthily of God:7 because that for the sake of the Name they went forth, taking nothing of the Gentiles.8 We therefore ought to welcome such, that we may be fellow-workers for the truth.9 I wrote somewhat unto the church: but Diotrephes, who loveth to have the preeminence among them, receiveth us not.10 Therefore, if I come, I will bring to remembrance his works which he doeth, prating against us with wicked words: and not content therewith, neither doth he himself receive the brethren, and them that would he forbiddeth and casteth them out of the church.11 Beloved, imitate not that which is evil, but that which is good. He that doeth good is of God: he that doeth evil hath not seen God.12 Demetrius hath the witness of all men, and of the truth itself: yea, we also bear witness: and thou knowest that our witness is true.13 I had many things to write unto thee, but I am unwilling to write them to thee with ink and pen:14 but I hope shortly to see thee, and we shall speak face to face. Peace be unto thee. The friends salute thee. Salute the friends by name.