previous next

کلسیوں 1

1 یہ خط پولس کی طرف سے ہے جو اللہ کی مرضی سے مسیح عیسیٰ کا رسول ہے۔ ساتھ ہی یہ بھائی تیمُتھیُس کی طرف سے بھی ہے۔2 مَیں کُلُسّے شہر کے مُقدّس بھائیوں کو لکھ رہا ہوں جو مسیح پر ایمان لائے ہیں: خدا ہمارا باپ آپ کو فضل اور سلامتی بخشے۔3 جب ہم آپ کے لئے دعا کرتے ہیں تو ہر وقت خدا اپنے خداوند عیسیٰ مسیح کے باپ کا شکر کرتے ہیں،4 کیونکہ ہم نے آپ کے مسیح عیسیٰ پر ایمان اور آپ کی تمام مُقدّسین سے محبت کے بارے میں سن لیا ہے۔5 آپ کا یہ ایمان اور محبت وہ کچھ ظاہر کرتے ہیں جس کی آپ اُمید رکھتے ہیں اور جو آسمان پر آپ کے لئے محفوظ رکھا گیا ہے۔ اور آپ نے یہ اُمید اُس وقت سے رکھی ہے جب سے آپ نے پہلی مرتبہ سچائی کا کلام یعنی اللہ کی خوش خبری سنی۔6 یہ پیغام جو آپ کے پاس پہنچ گیا پوری دنیا میں پھل لا رہا اور بڑھ رہا ہے، بالکل اُسی طرح جس طرح یہ آپ میں بھی اُس دن سے کام کر رہا ہے جب آپ نے پہلی بار اِسے سن کر اللہ کے فضل کی پوری حقیقت سمجھ لی۔7 آپ نے ہمارے عزیز ہم خدمت اِپَفراس سے اِس خوش خبری کی تعلیم پا لی تھی۔ مسیح کا یہ وفادار خادم ہماری جگہ آپ کی خدمت کر رہا ہے۔8 اُسی نے ہمیں آپ کی اُس محبت کے بارے میں بتایا جو روح القدس نے آپ کے دلوں میں ڈال دی ہے۔9 اِس وجہ سے ہم آپ کے لئے دعا کرنے سے باز نہیں آئے بلکہ یہ مانگتے رہتے ہیں کہ اللہ آپ کو ہر روحانی حکمت اور سمجھ سے نواز کر اپنی مرضی کے علم سے بھر دے۔10 کیونکہ پھر ہی آپ اپنی زندگی خداوند کے لائق گزار سکیں گے اور ہر طرح سے اُسے پسند آئیں گے۔ ہاں، آپ ہر قسم کا اچھا کام کر کے پھل لائیں گے اور اللہ کے علم و عرفان میں ترقی کریں گے۔11 اور آپ اُس کی جلالی قدرت سے ملنے والی ہر قسم کی قوت سے تقویت پا کر ہر وقت ثابت قدمی اور صبر سے چل سکیں گے۔ آپ خوشی سے12 باپ کا شکر کریں گے جس نے آپ کو اُس میراث میں حصہ لینے کے لائق بنا دیا جو اُس کے روشنی میں رہنے والے مُقدّسین کو حاصل ہے۔13 کیونکہ وہی ہمیں تاریکی کے اختیار سے رِہائی دے کر اپنے پیارے فرزند کی بادشاہی میں لایا،14 اُس واحد شخص کے اختیار میں جس نے ہمارا فدیہ دے کر ہمارے گناہوں کو معاف کر دیا۔15 اللہ کو دیکھا نہیں جا سکتا، لیکن ہم مسیح کو دیکھ سکتے ہیں جو اللہ کی صورت اور کائنات کا پہلوٹھا ہے۔16 کیونکہ اللہ نے اُسی میں سب کچھ خلق کیا، خواہ آسمان پر ہو یا زمین پر، آنکھوں کو نظر آئے یا نہ، خواہ شاہی تخت، قوتیں، حکمران یا اختیار والے ہوں۔ سب کچھ مسیح کے ذریعے اور اُسی کے لئے خلق ہوا۔17 وہی سب چیزوں سے پہلے ہے اور اُسی میں سب کچھ قائم رہتا ہے۔18 اور وہ بدن یعنی اپنی جماعت کا سر بھی ہے۔ وہی ابتدا ہے، اور چونکہ پہلے وہی مُردوں میں سے جی اُٹھا اِس لئے وہی اُن میں سے پہلوٹھا بھی ہے تاکہ وہ سب باتوں میں اوّل ہو۔19 کیونکہ اللہ کو پسند آیا کہ مسیح میں اُس کی پوری معموری سکونت کرے20 اور وہ مسیح کے ذریعے سب باتوں کی اپنے ساتھ صلح کرا لے، خواہ وہ زمین کی ہوں خواہ آسمان کی۔ کیونکہ اُس نے مسیح کے صلیب پر بہائے گئے خون کے وسیلے سے صلح سلامتی قائم کی۔21 آپ بھی پہلے اللہ کے سامنے اجنبی تھے اور دشمن کی سی سوچ رکھ کر بُرے کام کرتے تھے۔22 لیکن اب اُس نے مسیح کے انسانی بدن کی موت سے آپ کے ساتھ صلح کر لی ہے تاکہ وہ آپ کو مُقدّس، بےداغ اور بےالزام حالت میں اپنے حضور کھڑا کرے۔23 بےشک اب ضروری ہے کہ آپ ایمان میں قائم رہیں، کہ آپ ٹھوس بنیاد پر مضبوطی سے کھڑے رہیں اور اُس خوش خبری کی اُمید سے ہٹ نہ جائیں جو آپ نے سن لی ہے۔ یہ وہی پیغام ہے جس کی منادی دنیا میں ہر مخلوق کے سامنے کر دی گئی ہے اور جس کا خادم مَیں پولس بن گیا ہوں۔24 اب مَیں اُن دُکھوں کے باعث خوشی مناتا ہوں جو مَیں آپ کی خاطر اُٹھا رہا ہوں۔ کیونکہ مَیں اپنے جسم میں مسیح کے بدن یعنی اُس کی جماعت کی خاطر مسیح کی مصیبتوں کی وہ کمیاں پوری کر رہا ہوں جو اب تک رہ گئی ہیں۔25 ہاں، اللہ نے مجھے اپنی جماعت کا خادم بنا کر یہ ذمہ داری دی کہ مَیں آپ کو اللہ کا پورا کلام سنا دوں،26 وہ راز جو ازل سے تمام گزری نسلوں سے پوشیدہ رہا تھا لیکن اب مُقدّسین پر ظاہر کیا گیا ہے۔27 کیونکہ اللہ چاہتا تھا کہ وہ جان لیں کہ غیریہودیوں میں یہ راز کتنا بیش قیمت اور جلالی ہے۔ اور یہ راز ہے کیا؟ یہ کہ مسیح آپ میں ہے۔ وہی آپ میں ہے جس کے باعث ہم اللہ کے جلال میں شریک ہونے کی اُمید رکھتے ہیں۔28 یوں ہم سب کو مسیح کا پیغام سناتے ہیں۔ ہر ممکنہ حکمت سے ہم اُنہیں سمجھاتے اور تعلیم دیتے ہیں تاکہ ہر ایک کو مسیح میں کامل حالت میں اللہ کے حضور پیش کریں۔29 یہی مقصد پورا کرنے کے لئے مَیں سخت محنت کرتا ہوں۔ ہاں، مَیں پوری جد و جہد کر کے مسیح کی اُس قوت کا سہارا لیتا ہوں جو بڑے زور سے میرے اندر کام کر رہی ہے۔

Colossians 1

1 Paul, an apostle of Christ Jesus through the will of God, and Timothy our brother,2 To the saints and faithful brethren in Christ that are at Colossae: Grace to you and peace from God our Father.3 We give thanks to God the Father of our Lord Jesus Christ, praying always for you,4 having heard of your faith in Christ Jesus, and of the love which ye have toward all the saints,5 because of the hope which is laid up for you in the heavens, whereof ye heard before in the word of the truth of the gospel,6 which is come unto you; even as it is also in all the world bearing fruit and increasing, as it doth in you also, since the day ye heard and knew the grace of God in truth;7 even as ye learned of Epaphras our beloved fellow-servant, who is a faithful minister of Christ on our behalf,8 who also declared unto us your love in the Spirit.9 For this cause we also, since the day we heard it, do not cease to pray and make request for you, that ye may be filled with the knowledge of his will in all spiritual wisdom and understanding,10 to walk worthily of the Lord unto all pleasing, bearing fruit in every good work, and increasing in the knowledge of God;11 strengthened with all power, according to the might of his glory, unto all patience and longsuffering with joy;12 giving thanks unto the Father, who made us meet to be partakers of the inheritance of the saints in light;13 who delivered us out of the power of darkness, and translated us into the kingdom of the Son of his love;14 in whom we have our redemption, the forgiveness of our sins:15 who is the image of the invisible God, the firstborn of all creation;16 for in him were all things created, in the heavens and upon the earth, things visible and things invisible, whether thrones or dominions or principalities or powers; all things have been created through him, and unto him;17 and he is before all things, and in him all things consist.18 And he is the head of the body, the church: who is the beginning, the firstborn from the dead; that in all things he might have the preeminence.19 For it was the good pleasure of the Father that in him should all the fulness dwell;20 and through him to reconcile all things unto himself, having made peace through the blood of his cross; through him, I say, whether things upon the earth, or things in the heavens.21 And you, being in time past alienated and enemies in your mind in your evil works,22 yet now hath he reconciled in the body of his flesh through death, to present you holy and without blemish and unreproveable before him:23 if so be that ye continue in the faith, grounded and stedfast, and not moved away from the hope of the gospel which ye heard, which was preached in all creation under heaven; whereof I Paul was made a minister.24 Now I rejoice in my sufferings for your sake, and fill up on my part that which is lacking of the afflictions of Christ in my flesh for his body’s sake, which is the church;25 whereof I was made a minister, according to the dispensation of God which was given me to you-ward, to fulfil the word of God,26 even the mystery which hath been hid for ages and generations: but now hath it been manifested to his saints,27 to whom God was pleased to make known what is the riches of the glory of this mystery among the Gentiles, which is Christ in you, the hope of glory:28 whom we proclaim, admonishing every man and teaching every man in all wisdom, that we may present every man perfect in Christ;29 whereunto I labor also, striving according to his working, which worketh in me mightily.