previous next

گلتیوں 6

1 بھائیو، اگر کوئی کسی گناہ میں پھنس جائے تو آپ جو روحانی ہیں اُسے نرم دلی سے بحال کریں۔ لیکن اپنا بھی خیال رکھیں، ایسا نہ ہو کہ آپ بھی آزمائش میں پھنس جائیں۔2 بوجھ اُٹھانے میں ایک دوسرے کی مدد کریں، کیونکہ اِس طرح آپ مسیح کی شریعت پوری کریں گے۔3 جو سمجھتا ہے کہ مَیں کچھ ہوں اگرچہ وہ حقیقت میں کچھ بھی نہیں ہے تو وہ اپنے آپ کو فریب دے رہا ہے۔4 ہر ایک اپنا ذاتی عمل پرکھے۔ پھر ہی اُسے اپنے آپ پر فخر کا موقع ہو گا اور اُسے کسی دوسرے سے اپنا موازنہ کرنے کی ضرورت نہ ہو گی۔5 کیونکہ ہر ایک کو اپنا ذاتی بوجھ اُٹھانا ہوتا ہے۔6 جسے کلامِ مُقدّس کی تعلیم دی جاتی ہے اُس کا فرض ہے کہ وہ اپنے اُستاد کو اپنی تمام اچھی چیزوں میں شریک کرے۔7 فریب مت کھانا، اللہ انسان کو اپنا مذاق اُڑانے نہیں دیتا۔ جو کچھ بھی انسان بوتا ہے اُسی کی فصل وہ کاٹے گا۔8 جو اپنی پرانی فطرت کے کھیت میں بیج بوئے وہ ہلاکت کی فصل کاٹے گا۔ اور جو روح القدس کے کھیت میں بیج بوئے وہ ابدی زندگی کی فصل کاٹے گا۔9 چنانچہ ہم نیک کام کرنے میں بےدل نہ ہو جائیں، کیونکہ ہم مقررہ وقت پر ضرور فصل کی کٹائی کریں گے۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہم ہتھیار نہ ڈالیں۔10 اِس لئے آئیں، جتنا وقت رہ گیا ہے سب کے ساتھ نیکی کریں، خاص کر اُن کے ساتھ جو ایمان میں ہمارے بھائی اور بہنیں ہیں۔11 دیکھیں، مَیں بڑے بڑے حروف کے ساتھ اپنے ہاتھ سے آپ کو لکھ رہا ہوں۔12 یہ لوگ جو دنیا کے سامنے عزت حاصل کرنا چاہتے ہیں آپ کو ختنہ کروانے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔ مقصد اُن کا صرف ایک ہی ہے، کہ وہ اُس ایذا رسانی سے بچے رہیں جو تب پیدا ہوتی ہے جب ہم مسیح کی صلیبی موت کی تعلیم دیتے ہیں۔13 بات یہ ہے کہ جو اپنا ختنہ کراتے ہیں وہ خود شریعت کی پیروی نہیں کرتے۔ توبھی یہ چاہتے ہیں کہ آپ اپنا ختنہ کروائیں تاکہ آپ کے جسم کی حالت پر وہ فخر کر سکیں۔14 لیکن خدا کرے کہ مَیں صرف ہمارے خداوند عیسیٰ مسیح کی صلیب ہی پر فخر کروں۔ کیونکہ اُس کی صلیب سے دنیا میرے لئے مصلوب ہوئی ہے اور مَیں دنیا کے لئے۔15 ختنہ کروانے یا نہ کروانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ فرق اُس وقت پڑتا ہے جب اللہ کسی کو نئے سرے سے خلق کرتا ہے۔16 جو بھی اِس اصول پر عمل کرتے ہیں اُنہیں سلامتی اور رحم حاصل ہوتا رہے، اُنہیں بھی اور اللہ کی قوم اسرائیل کو بھی۔17 آئندہ کوئی مجھے تکلیف نہ دے، کیونکہ میرے جسم پر زخموں کے نشان ظاہر کرتے ہیں کہ مَیں عیسیٰ کا غلام ہوں۔18 بھائیو، ہمارے خداوند عیسیٰ مسیح کا فضل آپ کی روح کے ساتھ ہوتا رہے۔ آمین۔

Galatians 6

1 Brethren, even if a man be overtaken in any trespass, ye who are spiritual, restore such a one in a spirit of gentleness; looking to thyself, lest thou also be tempted.2 Bear ye one another’s burdens, and so fulfil the law of Christ.3 For if a man thinketh himself to be something when he is nothing, he deceiveth himself.4 But let each man prove his own work, and then shall he have his glorying in regard of himself alone, and not of his neighbor.5 For each man shall bear his own burden.6 But let him that is taught in the word communicate unto him that teacheth in all good things.7 Be not deceived; God is not mocked: for whatsoever a man soweth, that shall he also reap.8 For he that soweth unto his own flesh shall of the flesh reap corruption; but he that soweth unto the Spirit shall of the Spirit reap eternal life.9 And let us not be weary in well-doing: for in due season we shall reap, if we faint not.10 So then, as we have opportunity, let us work that which is good toward all men, and especially toward them that are of the household of the faith.11 See with how large letters I write unto you with mine own hand.12 As many as desire to make a fair show in the flesh, they compel you to be circumcised; only that they may not be persecuted for the cross of Christ.13 For not even they who receive circumcision do themselves keep the law; but they desire to have you circumcised, that they may glory in your flesh.14 But far be it from me to glory, save in the cross of our Lord Jesus Christ, through which the world hath been crucified unto me, and I unto the world.15 For neither is circumcision anything, nor uncircumcision, but a new creature.16 And as many as shall walk by this rule, peace be upon them, and mercy, and upon the Israel of God.17 Henceforth, let no man trouble me; for I bear branded on my body the marks of Jesus.18 The grace of our Lord Jesus Christ be with your spirit, brethren. Amen.