عبرانیوں 6
1 اِس لئے آئیں، ہم مسیح کے بارے میں بنیادی تعلیم کو چھوڑ کر بلوغت کی طرف آگے بڑھیں۔ کیونکہ ایسی باتیں دہرانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے جن سے ایمان کی بنیاد رکھی جاتی ہے، مثلاً موت تک پہنچانے والے کام سے توبہ،2 بپتسمہ کیا ہے، کسی پر ہاتھ رکھنے کی تعلیم، مُردوں کے جی اُٹھنے اور ابدی سزا پانے کی تعلیم۔3 چنانچہ اللہ کی مرضی ہوئی تو ہم یہ چھوڑ کر آگے بڑھیں گے۔4 ناممکن ہے کہ اُنہیں بحال کر کے دوبارہ توبہ تک پہنچایا جائے جنہوں نے اپنا ایمان ترک کر دیا ہو۔ اُنہیں تو ایک بار اللہ کے نور میں لایا گیا تھا، اُنہوں نے آسمان کی نعمت چکھ لی تھی، وہ روح القدس میں شریک ہوئے،5 اُنہوں نے اللہ کے کلام کی بھلائی اور آنے والے زمانے کی قوتوں کا تجربہ کیا تھا۔6 اور پھر اُنہوں نے اپنا ایمان ترک کر دیا! ایسے لوگوں کو بحال کر کے دوبارہ توبہ تک پہنچانا ناممکن ہے۔ کیونکہ ایسا کرنے سے وہ اللہ کے فرزند کو دوبارہ مصلوب کر کے اُسے لعن طعن کا نشانہ بنا دیتے ہیں۔7 اللہ اُس زمین کو برکت دیتا ہے جو اپنے پر بار بار پڑنے والی بارش کو جذب کر کے ایسی فصل پیدا کرتی ہے جو کھیتی باڑی کرنے والے کے لئے مفید ہو۔8 لیکن اگر وہ صرف خاردار پودے اور اونٹ کٹارے پیدا کرے تو وہ بےکار ہے اور اِس خطرے میں ہے کہ اُس پر لعنت بھیجی جائے۔ انجامِ کار اُس پر کا سب کچھ جلایا جائے گا۔9 عزیزو، گو ہم اِس طرح کی باتیں کر رہے ہیں توبھی ہمارا اعتماد یہ ہے کہ آپ کو وہ بہترین برکتیں حاصل ہیں جو نجات سے ملتی ہیں۔10 کیونکہ اللہ بےانصاف نہیں ہے۔ وہ آپ کا کام اور وہ محبت نہیں بھولے گا جو آپ نے اُس کا نام لے کر ظاہر کی جب آپ نے مُقدّسین کی خدمت کی بلکہ آج تک کر رہے ہیں۔11 لیکن ہماری بڑی خواہش یہ ہے کہ آپ میں سے ہر ایک اِسی سرگرمی کا اظہار آخر تک کرتا رہے تاکہ جن باتوں کی اُمید آپ رکھتے ہیں وہ واقعی پوری ہو جائیں۔12 ہم نہیں چاہتے کہ آپ سُست ہو جائیں بلکہ یہ کہ آپ اُن کے نمونے پر چلیں جو ایمان اور صبر سے وہ کچھ میراث میں پا رہے ہیں جس کا وعدہ اللہ نے کیا ہے۔13 جب اللہ نے قَسم کھا کر ابراہیم سے وعدہ کیا تو اُس نے اپنی ہی قَسم کھا کر یہ وعدہ کیا۔ کیونکہ کوئی اَور نہیں تھا جو اُس سے بڑا تھا جس کی قَسم وہ کھا سکتا۔14 اُس وقت اُس نے کہا، ”مَیں ضرور تجھے بہت برکت دوں گا، اور مَیں یقیناً تجھے کثرت کی اَولاد دوں گا۔“15 اِس پر ابراہیم نے صبر سے انتظار کر کے وہ کچھ پایا جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔16 قَسم کھاتے وقت لوگ اُس کی قَسم کھاتے ہیں جو اُن سے بڑا ہوتا ہے۔ اِس طرح سے قَسم میں بیان کردہ بات کی تصدیق بحث مباحثہ کی ہر گنجائش کو ختم کر دیتی ہے۔17 اللہ نے بھی قَسم کھا کر اپنے وعدے کی تصدیق کی۔ کیونکہ وہ اپنے وعدے کے وارثوں پر صاف ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ اُس کا ارادہ کبھی نہیں بدلے گا۔18 غرض، یہ دو باتیں قائم رہی ہیں، اللہ کا وعدہ اور اُس کی قَسم۔ وہ اِنہیں نہ تو بدل سکتا نہ اِن کے بارے میں جھوٹ بول سکتا ہے۔ یوں ہم جنہوں نے اُس کے پاس پناہ لی ہے بڑی تسلی پا کر اُس اُمید کو مضبوطی سے تھامے رکھ سکتے ہیں جو ہمیں پیش کی گئی ہے۔19 کیونکہ یہ اُمید ہماری جان کے لئے مضبوط لنگر ہے۔ اور یہ آسمانی بیت المُقدّس کے مُقدّس ترین کمرے کے پردے میں سے گزر کر اُس میں داخل ہوتی ہے۔20 وہیں عیسیٰ ہمارے آگے آگے جا کر ہماری خاطر داخل ہوا ہے۔ یوں وہ مَلِک صدق کی مانند ہمیشہ کے لئے امامِ اعظم بن گیا ہے۔
Hebrews 6
1 Wherefore leaving the doctrine of the first principles of Christ, let us press on unto perfection; not laying again a foundation of repentance from dead works, and of faith toward God,2 of the teaching of baptisms, and of laying on of hands, and of resurrection of the dead, and of eternal judgment.3 And this will we do, if God permit.4 For as touching those who were once enlightened and tasted of the heavenly gift, and were made partakers of the Holy Spirit,5 and tasted the good word of God, and the powers of the age to come,6 and then fell away, it is impossible to renew them again unto repentance; seeing they crucify to themselves the Son of God afresh, and put him to an open shame.7 For the land which hath drunk the rain that cometh oft upon it, and bringeth forth herbs meet for them for whose sake it is also tilled, receiveth blessing from God:8 but if it beareth thorns and thistles, it is rejected and nigh unto a curse; whose end is to be burned.9 But, beloved, we are persuaded better things of you, and things that accompany salvation, though we thus speak:10 for God is not unrighteous to forget your work and the love which ye showed toward his name, in that ye ministered unto the saints, and still do minister.11 And we desire that each one of you may show the same diligence unto the fulness of hope even to the end:12 that ye be not sluggish, but imitators of them who through faith and patience inherit the promises.13 For when God made promise to Abraham, since he could swear by none greater, he sware by himself,14 saying, Surely blessing I will bless thee, and multiplying I will multiply thee.15 And thus, having patiently endured, he obtained the promise.16 For men swear by the greater: and in every dispute of theirs the oath is final for confirmation.17 Wherein God, being minded to show more abundantly unto the heirs of the promise the immutability of his counsel, interposed with an oath;18 that by two immutable things, in which it is impossible for God to lie, we may have a strong encouragement, who have fled for refuge to lay hold of the hope set before us:19 which we have as an anchor of the soul, a hope both sure and stedfast and entering into that which is within the veil;20 whither as a forerunner Jesus entered for us, having become a high priest for ever after the order of Melchizedek.