previous next

یُوحنّا 10

1 مَیں تم سے سچ کہتا ہُوں کہ جو کوئی دروازہ سے بھیڑ خانہ میں داخِل نہیں ہوتا بلکہ اَور کِسی طرف سے چڑھ جاتا ہے وہ چور اور ڈاکُو ہے۔ 2 لیکن جو دروازہ سے داخِل ہوتا ہے وہ بھیڑوں کا چَرواہا ہے۔ 3 اُس کے لِئے دربان دروازہ کھول دیتا ہے اور بھیڑیں اُس کی آواز سُنتی ہیں اور وہ اپنی بھیڑوں کو نام بنام بُلا کر باہر لے جاتا ہے۔ 4 جب وہ اپنی سب بھیڑوں کو باہر نِکال چُکتا ہے تو اُن کے آگے آگے چلتا ہے اور بھیڑیں اُس کے پِیچھے پِیچھے ہو لیتی ہیں کیونکہ وہ اُس کی آواز پہچانتی ہیں۔

5 مگر وہ غَیر شخص کے پِیچھے نہ جائیں گی بلکہ اُس سے بھاگیں گی کیونکہ غَیروں کی آواز نہیں پہچانتِیں۔

6 یِسُو ع نے اُن سے یہ تمثِیل کہی لیکن وہ نہ سمجھے کہ یہ کیا باتیں ہیں جو ہم سے کہتا ہے۔

یِسُوع اچھّا چَراوہا ہے


7 پس یِسُو ع نے اُن سے پِھر کہا مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ بھیڑوں کا دروازہ مَیں ہُوں۔ 8 جِتنے مُجھ سے پہلے آئے سب چور اور ڈاکُو ہیں مگر بھیڑوں نے اُن کی نہ سُنی۔ 9 دروازہ مَیں ہُوں ۔ اگر کوئی مُجھ سے داخِل ہو تو نجات پائے گا اور اندر باہر آیا جایا کرے گا اور چارا پائے گا۔

10 چور نہیں آتا مگر چُرانے اور مار ڈالنے اور ہلاک کرنے کو ۔ مَیں اِس لِئے آیا کہ وہ زِندگی پائیں اور کثرت سے پائیں۔
11 اچھّا چَرواہا مَیں ہُوں ۔ اچھّا چَرواہا بھیڑوں کے لِئے اپنی جان دیتا ہے۔ 12 مزدُور جو نہ چَرواہا ہے نہ بھیڑوں کا مالِک ۔ بھیڑئے کو آتے دیکھ کر بھیڑوں کو چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے اور بھیڑیا اُن کو پکڑتا اور پراگندہ کرتا ہے۔ 13 وہ اِس لِئے بھاگ جاتا ہے کہ مزدُور ہے اور اُس کو بھیڑوں کی فِکر نہیں۔ 14 اچھّا چَرواہا مَیں ہُوں ۔ جِس طرح باپ مُجھے جانتا ہے اور مَیں باپ کو جانتا ہُوں۔ 15 اِسی طرح مَیں اپنی بھیڑوں کو جانتا ہُوں اور میری بھیڑیں مُجھے جانتی ہیں اور مَیں بھیڑوں کے لِئے اپنی جان دیتا ہُوں۔

16 اور میری اَور بھی بھیڑیں ہیں جو اِس بھیڑ خانہ کی نہیں ۔ مُجھے اُن کو بھی لانا ضرُور ہے اور وہ میری آواز سُنیں گی ۔ پِھر ایک ہی گلّہ اور ایک ہی چَرواہا ہو گا۔
17 باپ مُجھ سے اِس لِئے مُحبّت رکھتا ہے کہ مَیں اپنی جان دیتا ہُوں تاکہ اُسے پِھر لے لُوں۔

18 کوئی اُسے مُجھ سے چِھینتا نہیں بلکہ مَیں اُسے آپ ہی دیتا ہُوں ۔ مُجھے اُس کے دینے کا بھی اِختیار ہے اور اُسے پِھر لینے کا بھی اِختیار ہے ۔ یہ حُکم میرے باپ سے مُجھے مِلا۔
19 اِن باتوں کے سَبَب سے یہُودِیوں میں پِھر اِختلاف ہُؤا۔

20 اُن میں سے بُہتیرے تو کہنے لگے کہ اُس میں بدرُوح ہے اور وہ دِیوانہ ہے ۔ تُم اُس کی کیوں سُنتے ہو؟۔

21 اَوروں نے کہا یہ اَیسے شخص کی باتیں نہیں جِس میں بدرُوح ہو ۔ کیا بدرُوح اندھوں کی آنکھیں کھول سکتی ہے؟۔

یِسُوع کو ردّ کِیا جاتا ہے


22 یروشلِیم میں عِیدِ تجدِید ہُوئی اور جاڑے کا مَوسم تھا۔ 23 اور یِسُو ع ہَیکل کے اندر سُلیمانی برآمدہ میں ٹہل رہا تھا۔

24 پس یہُودِیوں نے اُس کے گِرد جمع ہو کر اُس سے کہا تُو کب تک ہمارے دِل کو ڈانوانڈول رکھّے گا؟ اگر تُو مسِیح ہے تو ہم سے صاف کہہ دے۔
25 یِسُو ع نے اُنہیں جواب دِیا کہ مَیں نے تو تُم سے کہہ دِیا مگر تُم یقِین نہیں کرتے ۔ جو کام مَیں اپنے باپ کے نام سے کرتا ہُوں وُہی میرے گواہ ہیں۔ 26 لیکن تُم اِس لِئے یقِین نہیں کرتے کہ میری بھیڑوں میں سے نہیں ہو۔ 27 میری بھیڑیں میری آواز سُنتی ہیں اور مَیں اُنہیں جانتا ہُوں اور وہ میرے پِیچھے پِیچھے چلتی ہیں۔ 28 اور میں اُنہیں ہمیشہ کی زِندگی بخشتا ہُوں اور وہ ابد تک کبھی ہلاک نہ ہوں گی اور کوئی اُنہیں میرے ہاتھ سے چِھین نہ لے گا۔ 29 میرا باپ جِس نے مُجھے وہ دی ہیں سب سے بڑا ہے اور کوئی اُنہیں باپ کے ہاتھ سے نہیں چِھین سکتا۔

30 مَیں اور باپ ایک ہیں۔
31 یہُودِیوں نے اُسے سنگسار کرنے کے لِئے پِھر پتّھر اُٹھائے۔

32 یِسُو ع نے اُنہیں جواب دِیا کہ مَیں نے تُم کو باپ کی طرف سے بُہتیرے اچھّے کام دِکھائے ہیں ۔ اُن میں سے کِس کام کے سبب سے مُجھے سنگسار کرتے ہو؟۔

33 یہُودِیوں نے اُسے جواب دِیا کہ اچھّے کام کے سبب سے نہیں بلکہ کُفر کے سبب سے تُجھے سنگسار کرتے ہیں اور اِس لِئے کہ تُو آدمی ہو کر اپنے آپ کو خُدا بناتا ہے۔
34 یِسُو ع نے اُنہیں جواب دِیا کیا تُمہاری شرِیعت میں یہ نہیں لِکھا ہے کہ مَیں نے کہا تُم خُدا ہو؟۔ 35 جب کہ اُس نے اُنہیں خُدا کہا جِن کے پاس خُدا کا کلام آیا (اور کِتابِ مُقدّ س کا باطِل ہونا مُمکِن نہیں)۔ 36 آیا تُم اُس شخص سے جِسے باپ نے مُقدّس کر کے دُنیا میں بھیجا کہتے ہو کہ تُو کُفر بکتا ہے اِس لِئے کہ مَیں نے کہا مَیں خُدا کا بیٹا ہُوں؟۔ 37 اگر مَیں اپنے باپ کے کام نہیں کرتا تو میرا یقِین نہ کرو۔

38 لیکن اگر مَیں کرتا ہُوں تو گو میرا یقِین نہ کرو مگر اُن کاموں کا تو یقِین کرو تاکہ تُم جانو اور سمجھو کہ باپ مُجھ میں ہے اور مَیں باپ میں۔

39 اُنہوں نے پِھر اُسے پکڑنے کی کوشِش کی لیکن وہ اُن کے ہاتھ سے نِکل گیا۔
40 وہ پِھر یَرد ن کے پار اُس جگہ چلا گیا جہاں ےُوحنّا پہلے بپتِسمہ دِیا کرتا تھا اور وہِیں رہا۔ 41 اور بُہتیرے اُس کے پاس آئے اور کہتے تھے کہ یُوحنّا نے کوئی مُعجِزہ نہیں دِکھایا مگر جو کُچھ یُوحنّا نے اِس کے حق میں کہا تھا وہ سچ تھا۔ 42 اور وہاں بُہتیرے اُس پر اِیمان لائے۔

لع� �ر کی مَوت

John 10

Parable of the Good Shepherd

1 "Truly, truly, I say to you, he who does not enter by the door into the fold of the sheep, but climbs up some other way, he is a thief and a robber.2 But he who enters by the door is a shepherd of the sheep.3 To him the doorkeeper opens, and the sheep hear his voice, and he calls his own sheep by name and leads them out.4 When he puts forth all his own, he goes ahead of them, and the sheep follow him because they know his voice.5 A stranger they simply will not follow, but will flee from him, because they do not know the voice of strangers."6 This figure of speech Jesus spoke to them, but they did not understand what those things were which He had been saying to them.

7 So Jesus said to them again, "Truly, truly, I say to you, I am the door of the sheep.8 All who came before Me are thieves and robbers, but the sheep did not hear them.9 I am the door; if anyone enters through Me, he will be saved, and will go in and out and find pasture.10 The thief comes only to steal and kill and destroy; I came that they may have life, and have it abundantly.

11 "I am the good shepherd; the good shepherd lays down His life for the sheep.12 He who is a hired hand, and not a shepherd, who is not the owner of the sheep, sees the wolf coming, and leaves the sheep and flees, and the wolf snatches them and scatters them.13 He flees because he is a hired hand and is not concerned about the sheep.14 I am the good shepherd, and I know My own and My own know Me,15 even as the Father knows Me and I know the Father; and I lay down My life for the sheep.16 I have other sheep, which are not of this fold; I must bring them also, and they will hear My voice; and they will become one flock with one shepherd.17 For this reason the Father loves Me, because I lay down My life so that I may take it again.18 No one has taken it away from Me, but I lay it down on My own initiative. I have authority to lay it down, and I have authority to take it up again. This commandment I received from My Father."

19 A division occurred again among the Jews because of these words.20 Many of them were saying, "He has a demon and is insane. Why do you listen to Him?"21 Others were saying, "These are not the sayings of one demon-possessed. A demon cannot open the eyes of the blind, can he?"

Jesus Asserts His Deity

22 At that time the Feast of the Dedication took place at Jerusalem;23 it was winter, and Jesus was walking in the temple in the portico of Solomon.24 The Jews then gathered around Him, and were saying to Him, "How long will You keep us in suspense? If You are the Christ, tell us plainly."25 Jesus answered them, "I told you, and you do not believe; the works that I do in My Father's name, these testify of Me.26 But you do not believe because you are not of My sheep.27 My sheep hear My voice, and I know them, and they follow Me;28 and I give eternal life to them, and they will never perish; and no one will snatch them out of My hand.29 tMy Father, who has given them to Me, is greater than all; and no one is able to snatch them out of the Father's hand.30 I and the Father are one."

31 The Jews picked up stones again to stone Him.32 Jesus answered them, "I showed you many good works from the Father; for which of them are you stoning Me?"33 The Jews answered Him, "For a good work we do not stone You, but for blasphemy; and because You, being a man, make Yourself out to be God."34 Jesus answered them, "Has it not been written in your Law, 'I SAID, YOU ARE GODS'?35 If he called them gods, to whom the word of God came (and the Scripture cannot be broken),36 do you say of Him, whom the Father sanctified and sent into the world, 'You are blaspheming,' because I said, 'I am the Son of God'?37 If I do not do the works of My Father, do not believe Me;38 but if I do them, though you do not believe Me, believe the works, so that you may know and understand that the Father is in Me, and I in the Father."39 Therefore they were seeking again to seize Him, and He eluded their grasp.

40 And He went away again beyond the Jordan to the place where John was first baptizing, and He was staying there.41 Many came to Him and were saying, "While John performed no sign, yet everything John said about this man was true."42 Many believed in Him there.