previous next

یوحنا 14

1 تمہارا دل نہ گھبرائے۔ تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو، مجھ پر بھی ایمان رکھو۔2 میرے باپ کے گھر میں بےشمار مکان ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کیا مَیں تم کو بتاتا کہ مَیں تمہارے لئے جگہ تیار کرنے کے لئے وہاں جا رہا ہوں؟3 اور اگر مَیں جا کر تمہارے لئے جگہ تیار کروں تو واپس آ کر تم کو اپنے ساتھ لے جاؤں گا تاکہ جہاں مَیں ہوں وہاں تم بھی ہو۔4 اور جہاں مَیں جا رہا ہوں اُس کی راہ تم جانتے ہو۔“5 توما بول اُٹھا، ”خداوند، ہمیں معلوم نہیں کہ آپ کہاں جا رہے ہیں۔ تو پھر ہم اُس کی راہ کس طرح جانیں؟“6 عیسیٰ نے جواب دیا، ”راہ اور حق اور زندگی مَیں ہوں۔ کوئی میرے وسیلے کے بغیر باپ کے پاس نہیں آ سکتا۔7 اگر تم نے مجھے جان لیا ہے تو اِس کا مطلب ہے کہ تم میرے باپ کو بھی جان لو گے۔ اور اب سے ایسا ہے بھی۔ تم اُسے جانتے ہو اور تم نے اُس کو دیکھ لیا ہے۔“8 فلپّس نے کہا، ”اے خداوند، باپ کو ہمیں دکھائیں۔ بس یہی ہمارے لئے کافی ہے۔“9 عیسیٰ نے جواب دیا، ”فلپّس، مَیں اِتنی دیر سے تمہارے ساتھ ہوں، کیا اِس کے باوجود تُو مجھے نہیں جانتا؟ جس نے مجھے دیکھا اُس نے باپ کو دیکھا ہے۔ تو پھر تُو کیونکر کہتا ہے، ’باپ کو ہمیں دکھائیں‘؟10 کیا تُو ایمان نہیں رکھتا کہ مَیں باپ میں ہوں اور باپ مجھ میں ہے؟ جو باتیں مَیں تم کو بتاتا ہوں وہ میری نہیں بلکہ مجھ میں رہنے والے باپ کی طرف سے ہیں۔ وہی اپنا کام کر رہا ہے۔11 میری بات کا یقین کرو کہ مَیں باپ میں ہوں اور باپ مجھ میں ہے۔ یا کم از کم اُن کاموں کی بنا پر یقین کرو جو مَیں نے کئے ہیں۔12 مَیں تم کو سچ بتاتا ہوں کہ جو مجھ پر ایمان رکھے وہ وہی کچھ کرے گا جو مَیں کرتا ہوں۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ اِن سے بھی بڑے کام کرے گا، کیونکہ مَیں باپ کے پاس جا رہا ہوں۔13 اور جو کچھ تم میرے نام میں مانگو مَیں دوں گا تاکہ باپ کو فرزند میں جلال مل جائے۔14 جو کچھ تم میرے نام میں مجھ سے چاہو وہ مَیں کروں گا۔15 اگر تم مجھے پیار کرتے ہو تو میرے احکام کے مطابق زندگی گزارو گے۔16 اور مَیں باپ سے گزارش کروں گا تو وہ تم کو ایک اَور مددگار دے گا جو ابد تک تمہارے ساتھ رہے گا17 یعنی سچائی کا روح، جسے دنیا پا نہیں سکتی، کیونکہ وہ نہ تو اُسے دیکھتی نہ جانتی ہے۔ لیکن تم اُسے جانتے ہو، کیونکہ وہ تمہارے ساتھ رہتا ہے اور آئندہ تمہارے اندر رہے گا۔18 مَیں تم کو یتیم چھوڑ کر نہیں جاؤں گا بلکہ تمہارے پاس واپس آؤں گا۔19 تھوڑی دیر کے بعد دنیا مجھے نہیں دیکھے گی، لیکن تم مجھے دیکھتے رہو گے۔ چونکہ مَیں زندہ ہوں اِس لئے تم بھی زندہ رہو گے۔20 جب وہ دن آئے گا تو تم جان لو گے کہ مَیں اپنے باپ میں ہوں، تم مجھ میں ہو اور مَیں تم میں۔21 جس کے پاس میرے احکام ہیں اور جو اُن کے مطابق زندگی گزارتا ہے، وہی مجھے پیار کرتا ہے۔ اور جو مجھے پیار کرتا ہے اُسے میرا باپ پیار کرے گا۔ مَیں بھی اُسے پیار کروں گا اور اپنے آپ کو اُس پر ظاہر کروں گا۔“22 یہوداہ (یہوداہ اسکریوتی نہیں) نے پوچھا، ”خداوند، کیا وجہ ہے کہ آپ اپنے آپ کو صرف ہم پر ظاہر کریں گے اور دنیا پر نہیں؟“23 عیسیٰ نے جواب دیا، ”اگر کوئی مجھے پیار کرے تو وہ میرے کلام کے مطابق زندگی گزارے گا۔ میرا باپ ایسے شخص کو پیار کرے گا اور ہم اُس کے پاس آ کر اُس کے ساتھ سکونت کریں گے۔24 جو مجھ سے محبت نہیں کرتا وہ میری باتوں کے مطابق زندگی نہیں گزارتا۔ اور جو کلام تم مجھ سے سنتے ہو وہ میرا اپنا کلام نہیں ہے بلکہ باپ کا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔25 یہ سب کچھ مَیں نے تمہارے ساتھ رہتے ہوئے تم کو بتایا ہے۔26 لیکن بعد میں روح القدس، جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا تم کو سب کچھ سکھائے گا۔ یہ مددگار تم کو ہر بات کی یاد دلائے گا جو مَیں نے تم کو بتائی ہے۔27 مَیں تمہارے پاس سلامتی چھوڑے جاتا ہوں، اپنی ہی سلامتی تم کو دے دیتا ہوں۔ اور مَیں اِسے یوں نہیں دیتا جس طرح دنیا دیتی ہے۔ تمہارا دل نہ گھبرائے اور نہ ڈرے۔28 تم نے مجھ سے سن لیا ہے کہ ’مَیں جا رہا ہوں اور تمہارے پاس واپس آؤں گا۔‘ اگر تم مجھ سے محبت رکھتے تو تم اِس بات پر خوش ہوتے کہ مَیں باپ کے پاس جا رہا ہوں، کیونکہ باپ مجھ سے بڑا ہے۔29 مَیں نے تم کو پہلے سے بتا دیا ہے، اِس سے پیشتر کہ یہ ہو، تاکہ جب پیش آئے تو تم ایمان لاؤ۔30 اب سے مَیں تم سے زیادہ باتیں نہیں کروں گا، کیونکہ اِس دنیا کا حکمران آ رہا ہے۔ اُسے مجھ پر کوئی قابو نہیں ہے،31 لیکن دنیا یہ جان لے کہ مَیں باپ کو پیار کرتا ہوں اور وہی کچھ کرتا ہوں جس کا حکم وہ مجھے دیتا ہے۔ اب اُٹھو، ہم یہاں سے چلیں۔

John 14

1 Let not your heart be troubled: believe in God, believe also in me.2 In my Father’s house are many mansions; if it were not so, I would have told you; for I go to prepare a place for you.3 And if I go and prepare a place for you, I come again, and will receive you unto myself; that where I am, there ye may be also.4 And whither I go, ye know the way.5 Thomas saith unto him, Lord, we know not whither thou goest; how know we the way?6 Jesus saith unto him, I am the way, and the truth, and the life: no one cometh unto the Father, but by me.7 If ye had known me, ye would have known my Father also: from henceforth ye know him, and have seen him.8 Philip saith unto him, Lord, show us the Father, and it sufficeth us.9 Jesus saith unto him, Have I been so long time with you, and dost thou not know me, Philip? he that hath seen me hath seen the Father; how sayest thou, Show us the Father?10 Believest thou not that I am in the Father, and the Father in me? the words that I say unto you I speak not from myself: but the Father abiding in me doeth his works.11 Believe me that I am in the Father, and the Father in me: or else believe me for the very works’ sake.12 Verily, verily, I say unto you, he that believeth on me, the works that I do shall he do also; and greater works than these shall he do; because I go unto the Father.13 And whatsoever ye shall ask in my name, that will I do, that the Father may be glorified in the Son.14 If ye shall ask anything in my name, that will I do.15 If ye love me, ye will keep my commandments.16 And I will pray the Father, and he shall give you another Comforter, that he may be with you for ever,17 even the Spirit of truth: whom the world cannot receive; for it beholdeth him not, neither knoweth him: ye know him; for he abideth with you, and shall be in you.18 I will not leave you desolate: I come unto you.19 Yet a little while, and the world beholdeth me no more; but ye behold me: because I live, ye shall live also.20 In that day ye shall know that I am in my Father, and ye in me, and I in you.21 He that hath my commandments, and keepeth them, he it is that loveth me: and he that loveth me shall be loved of my Father, and I will love him, and will manifest myself unto him.22 Judas (not Iscariot) saith unto him, Lord, what is come to pass that thou wilt manifest thyself unto us, and not unto the world?23 Jesus answered and said unto him, If a man love me, he will keep my word: and my Father will love him, and we will come unto him, and make our abode with him.24 He that loveth me not keepeth not my words: and the word which ye hear is not mine, but the Father’s who sent me.25 These things have I spoken unto you, while yet abiding with you.26 But the Comforter, even the Holy Spirit, whom the Father will send in my name, he shall teach you all things, and bring to your remembrance all that I said unto you.27 Peace I leave with you; my peace I give unto you: not as the world giveth, give I unto you. Let not your heart be troubled, neither let it be fearful.28 Ye heard how I said to you, I go away, and I come unto you. If ye loved me, ye would have rejoiced, because I go unto the Father: for the Father is greater than I.29 And now I have told you before it come to pass, that, when it is come to pass, ye may believe.30 I will no more speak much with you, for the prince of the world cometh: and he hath nothing in me;31 but that the world may know that I love the Father, and as the Father gave me commandment, even so I do. Arise, let us go hence.