previous next

یوحنا 16

1 مَیں نے تم کو یہ اِس لئے بتایا ہے تاکہ تم گم راہ نہ ہو جاؤ۔2 وہ تم کو یہودی جماعتوں سے نکال دیں گے، بلکہ وہ وقت بھی آنے والا ہے کہ جو بھی تم کو مار ڈالے گا وہ سمجھے گا، ’مَیں نے اللہ کی خدمت کی ہے۔‘3 وہ اِس قسم کی حرکتیں اِس لئے کریں گے کہ اُنہوں نے نہ باپ کو جانا ہے، نہ مجھے۔4 مَیں نے تم کو یہ باتیں اِس لئے بتائی ہیں کہ جب اُن کا وقت آ جائے تو تم کو یاد آئے کہ مَیں نے تمہیں آگاہ کر دیا تھا۔ مَیں نے اب تک تم کو یہ نہیں بتایا کیونکہ مَیں تمہارے ساتھ تھا۔5 لیکن اب مَیں اُس کے پاس جا رہا ہوں جس نے مجھے بھیجا ہے۔ توبھی تم میں سے کوئی مجھ سے نہیں پوچھتا، ’آپ کہاں جا رہے ہیں؟‘6 اِس کے بجائے تمہارے دل غم زدہ ہیں کہ مَیں نے تم کو ایسی باتیں بتائی ہیں۔7 لیکن مَیں تم کو سچ بتاتا ہوں کہ تمہارے لئے فائدہ مند ہے کہ مَیں جا رہا ہوں۔ اگر مَیں نہ جاؤں تو مددگار تمہارے پاس نہیں آئے گا۔ لیکن اگر مَیں جاؤں تو مَیں اُسے تمہارے پاس بھیج دوں گا۔8 اور جب وہ آئے گا تو گناہ، راست بازی اور عدالت کے بارے میں دنیا کی غلطی کو بےنقاب کر کے یہ ظاہر کرے گا:9 گناہ کے بارے میں یہ کہ لوگ مجھ پر ایمان نہیں رکھتے،10 راست بازی کے بارے میں یہ کہ مَیں باپ کے پاس جا رہا ہوں اور تم مجھے اب سے نہیں دیکھو گے،11 اور عدالت کے بارے میں یہ کہ اِس دنیا کے حکمران کی عدالت ہو چکی ہے۔12 مجھے تم کو مزید بہت کچھ بتانا ہے، لیکن اِس وقت تم اُسے برداشت نہیں کر سکتے۔13 جب سچائی کا روح آئے گا تو وہ پوری سچائی کی طرف تمہاری راہنمائی کرے گا۔ وہ اپنی مرضی سے بات نہیں کرے گا بلکہ صرف وہی کچھ کہے گا جو وہ خود سنے گا۔ وہی تم کو مستقبل کے بارے میں بھی بتائے گا۔14 اور وہ اِس میں مجھے جلال دے گا کہ وہ تم کو وہی کچھ سنائے گا جو اُسے مجھ سے ملا ہو گا۔15 جو کچھ بھی باپ کا ہے وہ میرا ہے۔ اِس لئے مَیں نے کہا، ’روح تم کو وہی کچھ سنائے گا جو اُسے مجھ سے ملا ہو گا۔‘16 تھوڑی دیر کے بعد تم مجھے نہیں دیکھو گے۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد تم مجھے دوبارہ دیکھ لو گے۔“17 اُس کے کچھ شاگرد آپس میں بات کرنے لگے، ”عیسیٰ کے یہ کہنے سے کیا مراد ہے کہ ’تھوڑی دیر کے بعد تم مجھے نہیں دیکھو گے، پھر تھوڑی دیر کے بعد مجھے دوبارہ دیکھ لو گے؟‘ اور اِس کا کیا مطلب ہے، ’مَیں باپ کے پاس جا رہا ہوں‘؟“18 اور وہ سوچتے رہے، ”یہ کس قسم کی ’تھوڑی دیر‘ ہے جس کا ذکر وہ کر رہے ہیں؟ ہم اُن کی بات نہیں سمجھتے۔“19 عیسیٰ نے جان لیا کہ وہ مجھ سے اِس کے بارے میں سوال کرنا چاہتے ہیں۔ اِس لئے اُس نے کہا، ”کیا تم ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہو کہ میری اِس بات کا کیا مطلب ہے کہ ’تھوڑی دیر کے بعد تم مجھے نہیں دیکھو گے، پھر تھوڑی دیر کے بعد مجھے دوبارہ دیکھ لو گے‘؟20 مَیں تم کو سچ بتاتا ہوں کہ تم رو رو کر ماتم کرو گے جبکہ دنیا خوش ہو گی۔ تم غم کرو گے، لیکن تمہارا غم خوشی میں بدل جائے گا۔21 جب کسی عورت کے بچہ پیدا ہونے والا ہوتا ہے تو اُسے غم اور تکلیف ہوتی ہے کیونکہ اُس کا وقت آ گیا ہے۔ لیکن جوں ہی بچہ پیدا ہو جاتا ہے تو ماں خوشی کے مارے کہ ایک انسان دنیا میں آ گیا ہے اپنی تمام مصیبت بھول جاتی ہے۔22 یہی تمہاری حالت ہے۔ کیونکہ اب تم غمزدہ ہو، لیکن مَیں تم سے دوبارہ ملوں گا۔ اُس وقت تم کو خوشی ہو گی، ایسی خوشی جو تم سے کوئی چھین نہ لے گا۔23 اُس دن تم مجھ سے کچھ نہیں پوچھو گے۔ مَیں تم کو سچ بتاتا ہوں کہ جو کچھ تم میرے نام میں باپ سے مانگو گے وہ تم کو دے گا۔24 اب تک تم نے میرے نام میں کچھ نہیں مانگا۔ مانگو تو تم کو ملے گا۔ پھر تمہاری خوشی پوری ہو جائے گی۔25 مَیں نے تم کو یہ تمثیلوں میں بتایا ہے۔ لیکن ایک دن آئے گا جب مَیں ایسا نہیں کروں گا۔ اُس وقت مَیں تمثیلوں میں بات نہیں کروں گا بلکہ تم کو باپ کے بارے میں صاف صاف بتا دوں گا۔26 اُس دن تم میرا نام لے کر مانگو گے۔ میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ مَیں ہی تمہاری خاطر باپ سے درخواست کروں گا۔27 کیونکہ باپ خود تم کو پیار کرتا ہے، اِس لئے کہ تم نے مجھے پیار کیا ہے اور ایمان لائے ہو کہ مَیں اللہ میں سے نکل آیا ہوں۔28 مَیں باپ میں سے نکل کر دنیا میں آیا ہوں۔ اور اب مَیں دنیا کو چھوڑ کر باپ کے پاس واپس جا تا ہوں۔“29 اِس پر اُس کے شاگردوں نے کہا، ”اب آپ تمثیلوں میں نہیں بلکہ صاف صاف بات کر رہے ہیں۔30 اب ہمیں سمجھ آئی ہے کہ آپ سب کچھ جانتے ہیں اور کہ اِس کی ضرورت نہیں کہ کوئی آپ کی پوچھ گچھ کرے۔ اِس لئے ہم ایمان رکھتے ہیں کہ آپ اللہ میں سے نکل کر آئے ہیں۔“31 عیسیٰ نے جواب دیا، ”اب تم ایمان رکھتے ہو؟32 دیکھو، وہ وقت آ رہا ہے بلکہ آ چکا ہے جب تم تتر بتر ہو جاؤ گے۔ مجھے اکیلا چھوڑ کر ہر ایک اپنے گھر چلا جائے گا۔ توبھی مَیں اکیلا نہیں ہوں گا کیونکہ باپ میرے ساتھ ہے۔33 مَیں نے تم کو اِس لئے یہ بات بتائی تاکہ تم مجھ میں سلامتی پاؤ۔ دنیا میں تم مصیبت میں پھنسے رہتے ہو۔ لیکن حوصلہ رکھو، مَیں دنیا پر غالب آیا ہوں۔“

John 16

1 These things have I spoken unto you, that ye should not be caused to stumble.2 They shall put you out of the synagogues: yea, the hour cometh, that whosoever killeth you shall think that he offereth service unto God.3 And these things will they do, because they have not known the Father, nor me.4 But these things have I spoken unto you, that when their hour is come, ye may remember them, how that I told you. And these things I said not unto you from the beginning, because I was with you.5 But now I go unto him that sent me; and none of you asketh me, Whither goest thou?6 But because I have spoken these things unto you, sorrow hath filled your heart.7 Nevertheless I tell you the truth: It is expedient for you that I go away; for if I go not away, the Comforter will not come unto you; but if I go, I will send him unto you.8 And he, when he is come, will convict the world in respect of sin, and of righteousness, and of judgment:9 of sin, because they believe not on me;10 of righteousness, because I go to the Father, and ye behold me no more;11 of judgment, because the prince of this world hath been judged.12 I have yet many things to say unto you, but ye cannot bear them now.13 Howbeit when he, the Spirit of truth, is come, he shall guide you into all the truth: for he shall not speak from himself; but what things soever he shall hear, these shall he speak: and he shall declare unto you the things that are to come.14 He shall glorify me: for he shall take of mine, and shall declare it unto you.15 All things whatsoever the Father hath are mine: therefore said I, that he taketh of mine, and shall declare it unto you.16 A little while, and ye behold me no more; and again a little while, and ye shall see me.17 Some of his disciples therefore said one to another, What is this that he saith unto us, A little while, and ye behold me not; and again a little while, and ye shall see me: and, Because I go to the Father?18 They said therefore, What is this that he saith, A little while? We know not what he saith.19 Jesus perceived that they were desirous to ask him, and he said unto them, Do ye inquire among yourselves concerning this, that I said, A little while, and ye behold me not, and again a little while, and ye shall see me?20 Verily, verily, I say unto you, that ye shall weep and lament, but the world shall rejoice: ye shall be sorrowful, but your sorrow shall be turned into joy.21 A woman when she is in travail hath sorrow, because her hour is come: but when she is delivered of the child, she remembereth no more the anguish, for the joy that a man is born into the world.22 And ye therefore now have sorrow: but I will see you again, and your heart shall rejoice, and your joy no one taketh away from you.23 And in that day ye shall ask me no question. Verily, verily, I say unto you, if ye shall ask anything of the Father, he will give it you in my name.24 Hitherto have ye asked nothing in my name: ask, and ye shall receive, that your joy may be made full.25 These things have I spoken unto you in dark sayings: the hour cometh, when I shall no more speak unto you in dark sayings, but shall tell you plainly of the Father.26 In that day ye shall ask in my name: and I say not unto you, that I will pray the Father for you;27 for the Father himself loveth you, because ye have loved me, and have believed that I came forth from the Father.28 I came out from the Father, and am come into the world: again, I leave the world, and go unto the Father.29 His disciples say, Lo, now speakest thou plainly, and speakest no dark saying.30 Now know we that thou knowest all things, and needest not that any man should ask thee: by this we believe that thou camest forth from God.31 Jesus answered them, Do ye now believe?32 Behold, the hour cometh, yea, is come, that ye shall be scattered, every man to his own, and shall leave me alone: and yet I am not alone, because the Father is with me.33 These things have I spoken unto you, that in me ye may have peace. In the world ye have tribulation: but be of good cheer; I have overcome the world.