لُوقا 16
مُعاملہ شناس مُنتظم
1 پِھر اُس نے شاگِردوں سے بھی کہا کہ کِسی دَو لت مند کا ایک مُختار تھا O اُس کی لوگوں نے اُس سے شِکایت کی کہ یہ تیرا مال اُڑاتا ہےO 2 پس اُس نے اُس کو بُلا کر کہا کہ یہ کیا ہے جو مَیں تیرے حق میں سُنتا ہُوں؟ اپنی مُختاری کا حِساب دے کیونکہ آگے کو تُو مُختار نہیں رہ سکتاO 3 اُس مُختار نے اپنے جی میں کہا کہ کیا کرُوں؟ کیونکہ میرا مالِک مُجھ سے مُختاری چِھینے لیتا ہے O مِٹّی تو مُجھ سے کھودی نہیں جاتی اور بِھیک مانگنے سے شرم آتی ہےO
4 مَیں سمجھ گیا کہ کیا کرُوں تاکہ جب مُختاری سے مَوقُوف ہو جاؤُں تو لوگ مُجھے اپنے گھروں میں جگہ دیںO
5 پس اُس نے اپنے مالِک کے ایک ایک قرض دار کو بُلا کر پہلے سے پُوچھاکہ تُجھ پر میرے مالِک کا کیا آتا ہے؟O 6 اُس نے کہا سَو من تیل O اُس نے اُس سے کہا اپنی دستاویز لے اور جلد بَیٹھ کر پچاس لِکھ دےO
7 پِھر دُوسرے سے کہا تُجھ پر کیا آتا ہے؟ اُس نے کہا سَو من گیہُوں O اُس نے اُس سے کہا اپنی دستاویز لے کر اسّی لِکھ دےO
8 اور مالِک نے بے اِیمان مُختار کی تعرِیف کی اِس لِئے کہ اُس نے ہوشیاری کی تھی کیونکہ اِس جہان کے فرزند اپنے ہم جِنسوں کے ساتھ مُعاملات میں نُورکے فرزندوں سے زِیادہ ہوشیار ہیںO
9 اور مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ ناراستی کی دَولت سے اپنے لِئے دوست پَیدا کرو تاکہ جب وہ جاتی رہے تو یہ تُم کو ہمیشہ کے مسکنوں میں جگہ دیںO 10 جو تھوڑے میں دِیانت دار ہے وہ بُہت میں بھی دِیانت دار ہے اور جو تھوڑے میں بددِیانت ہے وہ بُہت میں بھی بددِیانت ہےO 11 پس جب تُم ناراست دَولت میں دِیانت دار نہ ٹھہرے تو حقِیقی دَولت کَون تُمہارے سپُرد کرے گا؟O
12 اور اگر تُم بیگانہ مال میں دِیانت دار نہ ٹھہرے تو جو تُمہارا اپنا ہے اُسے کَون تُمہیں دے گا؟O
13 کوئی نَوکر دو مالِکوں کی خِدمت نہیں کر سکتا کیونکہ یا تو ایک سے عداوت رکھّے گا اور دُوسرے سے مُحبّت یا ایک سے مِلا رہے گا اور دُوسرے کو ناچِیز جانے گا O تُم خُدا اور دَولت دونوں کی خِدمت نہیں کر سکتےOیِسُوع کے چند مقُولے
(متّی ۵:۳۱-۳۲؛ ۱۱:۱۲-۱۳؛ مرقس ۱۰:۱۱ -۱۲)
14 فریسی جو زر دوست تھے اِن سب باتوں کو سُن کر اُسے ٹھٹّھے میں اُڑانے لگےO
15 اُس نے اُن سے کہا کہ تُم وہ ہو کہ آدمِیوں کے سامنے اپنے آپ کو راست باز ٹھہراتے ہو لیکن خُدا تُمہارے دِلوں کو جانتا ہے کیونکہ جو چِیز آدمِیوں کی نظر میں عالی قدر ہے وہ خُدا کے نزدِیک مکرُوہ ہےO
16 شرِیعت اور انبِیا یُوحنّا تک رہے O اُس وقت سے خُدا کی بادشاہی کی خُوشخبری دی جاتی ہے اور ہر ایک زور مار کر اُس میں داخِل ہوتا ہےO
17 لیکن آسمان اور زمِین کا ٹل جانا شرِیعت کے ایک نُقطہ کے مِٹ جانے سے آسان ہےO
18 جو کوئی اپنی بِیوی کو چھوڑ کر دُوسری سے بیاہ کرے وہ زِنا کرتا ہے اور جو شخص شَوہر کی چھوڑی ہُوئی عَورت سے بیاہ کرے وہ بھی زِنا کرتا ہےOدَولت مند آدمی اور لعزر
19 ایک دَولت مند تھا جو ارغوانی اور مہِین کپڑے پہنتااور ہر روز خُوشی مناتا اور شان و شوکت سے رہتا تھاO 20 اور لعزر نام ایک غرِیب ناسُوروں سے بھرا ہُؤا اُس کے دروازہ پر ڈالا گیا تھاO
21 اُسے آرزُو تھی کہ دَولت مند کی میز سے گِرے ہُوئے ٹُکڑوں سے اپنا پیٹ بھرے بلکہ کُتّے بھی آ کر اُس کے ناسُور چاٹتے تھےO
22 اور اَیسا ہُؤا کہ وہ غرِیب مَرگیا اور فرِشتوں نے اُسے لے جا کر ابرہا م کی گود میں پُہنچا دِیا اور دَولت مند بھی مُؤا اور دفن ہُؤاO 23 اُس نے عالَمِ اَرواح کے درمِیان عذاب میں مُبتلا ہو کر اپنی آنکھیں اُٹھائِیں اور ابرہا م کو دُور سے دیکھا اور اُس کی گود میں لعزر کوO
24 اور اُس نے پُکار کر کہا اَے باپ ابرہا م مُجھ پر رحم کر کے لعزر کو بھیج کہ اپنی اُنگلی کا سِرا پانی میں بِھگو کر میری زُبان تر کرے کیونکہ مَیں اِس آگ میں تڑپتا ہُوںO
25 ابرہا م نے کہا بیٹا! یاد کر کہ تُو اپنی زِندگی میں اپنی اچھّی چِیزیں لے چُکا اور اُسی طرح لعزر بُری چِیزیں لیکن اب وہ یہاں تسلّی پاتا ہے اور تُو تڑپتا ہےO 26 اور اِن سب باتوں کے سِوا ہمارے تُمہارے درمِیان ایک بڑا گڑھا واقِع ہے O اَیسا کہ جو یہاں سے تُمہاری طرف پار جانا چاہیں نہ جا سکیں اور نہ کوئی اُدھر سے ہماری طرف آ سکےO 27 اُس نے کہا پس اَے باپ! مَیں تیری مِنّت کرتا ہُوں کہ تُو اُسے میرے باپ کے گھر بھیجO
28 کیونکہ میرے پانچ بھائی ہیں تاکہ وہ اُن کے سامنے اِن باتوں کی گواہی دے O اَیسا نہ ہو کہ وہ بھی اِس عذاب کی جگہ میں آئیںO
29 ابرہا م نے اُس سے کہا اُن کے پاس مُوسیٰ اور انبِیا تو ہیں O اُن کی سُنیںO 30 اُس نے کہا نہیں اَے باپ ابرہا مO ہاں اگر کوئی مُردوں میں سے اُن کے پاس جائے تو وہ تَوبہ کریں گےO 31 اُس نے اُس سے کہا کہ جب وہ مُوسیٰ اور نبِیوں ہی کی نہیں سُنتے تو اگر مُردوں میں سے کوئی جی اُٹھے تو اُس کی بھی نہ مانیں گےO گُناہ (متّی ۱۸:۶-۷، ۲۱-۲۲؛ مرقس ۹:۴۲)
Luke 16
The Unrighteous Steward
1 Now He was also saying to the disciples, "There was a rich man who had a manager, and this manager was reported to him as squandering his possessions.2 And he called him and said to him, 'What is this I hear about you? Give an accounting of your management, for you can no longer be manager.'3 The manager said to himself, 'What shall I do, since my master is taking the management away from me? I am not strong enough to dig; I am ashamed to beg.4 I know what I shall do, so that when I am removed from the management people will welcome me into their homes.'5 And he summoned each one of his master's debtors, and he began saying to the first, 'How much do you owe my master?'6 And he said, 'A hundred measures of oil.' And he said to him, 'Take your bill, and sit down quickly and write fifty.'7 Then he said to another, 'And how much do you owe?' And he said, 'A hundred measures of wheat.' He *said to him, 'Take your bill, and write eighty.'8 And his master praised the unrighteous manager because he had acted shrewdly; for the sons of this age are more shrewd in relation to their own kind than the sons of light.9 And I say to you, make friends for yourselves by means of the twealth of unrighteousness, so that when it fails, they will receive you into the eternal dwellings.
10 "He who is faithful in a very little thing is faithful also in much; and he who is unrighteous in a very little thing is unrighteous also in much.11 Therefore if you have not been faithful in the use of unrighteous wealth, who will entrust the true riches to you?12 And if you have not been faithful in the use of that which is another's, who will give you that which is your own?13 No servant can serve two masters; for either he will hate the one and love the other, or else he will be devoted to one and despise the other. You cannot serve God and wealth."
14 Now the Pharisees, who were lovers of money, were listening to all these things and were scoffing at Him.15 And He said to them, "You are those who justify yourselves in the sight of men, but God knows your hearts; for that which is highly esteemed among men is detestable in the sight of God.
16 "The Law and the Prophets were proclaimed until John; since that time the gospel of the kingdom of God has been preached, and everyone is forcing his way into it.17 But it is easier for heaven and earth to pass away than for one stroke of a letter of the Law to fail.
18 "Everyone who divorces his wife and marries another commits adultery, and he who marries one who is divorced from a husband commits adultery.
The Rich Man and Lazarus
19 "Now there was a rich man, and he habitually dressed in purple and fine linen, joyously living in splendor every day.20 And a poor man named Lazarus was laid at his gate, covered with sores,21 and longing to be fed with the crumbs which were falling from the rich man's table; besides, even the dogs were coming and licking his sores.22 Now the poor man died and was carried away by the angels to Abraham's bosom; and the rich man also died and was buried.23 In Hades he lifted up his eyes, being in torment, and *saw Abraham far away and Lazarus in his bosom.24 And he cried out and said, 'Father Abraham, have mercy on me, and send Lazarus so that he may dip the tip of his finger in water and cool off my tongue, for I am in agony in this flame.'25 But Abraham said, 'Child, remember that during your life you received your good things, and likewise Lazarus bad things; but now he is being comforted here, and you are in agony.26 And besides all this, between us and you there is a great chasm fixed, so that those who wish to come over from here to you will not be able, and that none may cross over from there to us.'27 And he said, 'Then I beg you, father, that you send him to my father's house-28 for I have five brothers-in order that he may warn them, so that they will not also come to this place of torment.'29 But Abraham *said, 'They have Moses and the Prophets; let them hear them.'30 But he said, 'No, father Abraham, but if someone goes to them from the dead, they will repent!'31 But he said to him, 'If they do not listen to Moses and the Prophets, they will not be persuaded even if someone rises from the dead.'"