previous next

لُوقا 6

سبت کے بارے میں سوال

(متّی ۱۲: ۱‏-۸؛ مرقس ۲: ۲۳‏-۲۸)

1 پِھر سبت کے دِن یُوں ہُؤا کہ وہ کھیتوں میں ہو کر جا رہا تھا اور اُس کے شاگِرد بالیں توڑ توڑ کر اور ہاتھوں سے مَل مَل کر کھاتے جاتے تھےO

2 اور فریسیوں میں سے بعض کہنے لگے تُم وہ کام کیوں کرتے ہو جو سَبت کے دِن کرنا روا نہیں؟O
3 یِسُو ع نے جواب میں اُن سے کہا کیا تُم نے یہ بھی نہیں پڑھا کہ جب داؤُد اور اُس کے ساتھی بُھوکے تھے تو اُس نے کیا کِیاO

4 وہ کیوں کر خُدا کے گھر میں گیا اور نذر کی روٹِیاں لے کر کھائِیں جِن کو کھانا کاہِنوں کے سِوا اَور کِسی کو رَوا نہیں اور اپنے ساتِھیوں کو بھی دِیں؟O

5 پِھر اُس نے اُن سے کہا کہ اِبنِ آدم سبت کا مالِک ہےO

سُوکھے ہاتھ والا آدمی

( متّی ۱۲: ۹‏-۱۴؛ مرقس ۳: ۱‏-۶)


6 اور یُوں ہُؤا کہ کِسی اَور سبت کو وہ عِبادت خانہ میں داخِل ہو کر تعلِیم دینے لگا اور وہاں ایک آدمی تھا جِس کا دہنا ہاتھ سُوکھ گیا تھاO 7 اور فقِیہہ اور فریسی اُس کی تاک میں تھے کہ آیا سبت کے دِن اچھّا کرتا ہے یا نہیں تاکہ اُس پر اِلزام لگانے کا مَوقع پائیںO 8 مگر اُس کو اُن کے خیال معلُوم تھے O پس اُس نے اُس آدمی سے جِس کا ہاتھ سُوکھا تھا کہا اُٹھ اور بِیچ میں کھڑا ہو O وہ اُٹھ کھڑا ہُؤاO 9 یِسُو ع نے اُن سے کہا مَیں تُم سے یہ پُوچھتا ہُوں کہ آیا سبت کے دِن نیکی کرنا روا ہے یا بدی کرنا؟ جان بچانا یا ہلاک کرنا؟O

10 اور اُن سب پر نظر کر کے اُس سے کہا اپنا ہاتھ بڑھا O اُس نے بڑھایا اور اُس کا ہاتھ درُست ہو گیاO

11 وہ آپے سے باہر ہو کر ایک دُوسرے سے کہنے لگے کہ ہم یِسُو ع کے ساتھ کیا کریں؟O

یِسُوع بارہ رسُول چُنتا ہے

(متّی ۱۰: ۱‏-۴؛ مرقس ۳‏:۱۳‏-۱۹)


12 اور اُن دِنوں میں اَیسا ہُؤا کہ وہ پہاڑ پر دُعا کرنے کو نِکلا اور خُدا سے دُعا کرنے میں ساری رات گُذاریO 13 جب دِن ہُؤا تو اُس نے اپنے شاگِردوں کو پاس بُلا کر اُن میں سے بارہ چُن لِئے اور اُن کو رسُول کا لَقب دِیاO 14 یعنی شمعُو ن جِس کا نام اُس نے پطر س بھی رکھّا اور اُس کا بھائی اندر یاس اَور یعقُو ب اور یُوحنّا اور فِلِپُّس اور برتُلما ئیO 15 اور متّی اور توما ا ور حلفئی کا بیٹا یعقُوب اور شمعُون جو زیلو تیس کہلاتا تھاO

16 اور یعقُو ب کا بیٹا یہُودا ہ اور یہُودا ہ اِسکریُوتی جو اُس کا پکڑوانے والا ہُؤاO

یِسُوع تعلِیم دیتا اور شِفا دیتا ہے

( متّی ۴: ۲۳‏-۲۵)


17 اور وہ اُن کے ساتھ اُتر کر ہموار جگہ پر کھڑا ہُؤا اور اُس کے شاگِردوں کی بڑی جماعت اور لوگوں کی بڑی بِھیڑ وہاں تھی جو سارے یہُودیہ اور یروشلِیم اور صُور اور صَیدا کے بحری کنارے سے اُس کی سُننے اور اپنی بِیمارِیوں سے شِفا پانے کے لِئے اُس کے پاس آئی تھیO 18 اور جو ناپاک رُوحوں سے دُکھ پاتے تھے وہ اچھّے کِئے گئےO

19 اور سب لوگ اُسے چُھونے کی کوشِش کرتے تھے کیونکہ قُوّت اُس سے نِکلتی اور سب کو شِفا بخشتی تھیO

مُبارک حالی اور زبُوں حالی

(متّی ۵: ۱‏-۱۲)


20 پِھر اُس نے اپنے شاگِردوں کی طرف نظر کر کے کہا
مُبارک ہو تُم جو غرِیب ہو
کیونکہ خُدا کی بادشاہی تُمہاری ہےO

21 مُبارک ہو تُم جو اَب بُھوکے ہو
کیونکہ آسُودہ ہو گے O
مُبارک ہو تُم جو اَب روتے ہو
کیونکہ ہنسو گےO
22 جب اِبنِ آدم کے سبب سے لوگ تُم سے عداوت رکھّیں گے اور تُمہیں خارِج کر دیں گے اور لَعن طَعن کریں گے اور تُمہارا نام بُرا جان کر کاٹ دیں گے تو تُم مُبارک ہو گےO

23 اُس دِن خُوش ہونا اور خُوشی کے مارے اُچھلنا O اِس لِئے کہ دیکھو آسمان پر تُمہارا اَجر بڑا ہے کیونکہ اُن کے باپ داد ا نبِیوں کے ساتھ بھی اَیسا ہی کِیا کرتے تھےO

24 مگر افسوس تُم پر جو دَولت مند ہو
کیونکہ تُم اپنی تسلّی پا چُکےO

25 افسوس تُم پر جو اَب سیر ہو
کیونکہ بُھوکے ہو گے O
افسوس تُم پر جو اَب ہنستے ہو
کیونکہ ماتم کرو گے اور روؤ گےO

26 افسوس تُم پر جب سب لوگ تُمہیں بَھلاکہیں کیونکہ اُن کے باپ دادا جُھوٹے نبِیوں کے ساتھ بھی اَیسا ہی کِیا کرتے تھےO

دُشمنوں کے لِئے مُحبّت

( متّی ۵‏:۳۸‏-۴۸، ۷: ۱۲)


27 لیکن مَیں تُم سُننے والوں سے کہتا ہُوں کہ اپنے دُشمنوں سے محُبّت رکھّو O جو تُم سے عداوت رکھّیں اُن کا بھلا کروO 28 جو تُم پر لَعنت کریں اُن کے لِئے برکت چاہو O جو تُمہاری تحقِیر کریں اُن کے لِئے دُعا کروO 29 جو تیرے ایک گال پر طمانچہ مارے دُوسرا بھی اُس کی طرف پھیر دے اور جو تیرا چوغہ لے اُس کو کُرتہ لینے سے بھی منع نہ کرO 30 جو کوئی تُجھ سے مانگے اُسے دے اور جو تیرا مال لے لے اُس سے طلب نہ کرO

31 اور جَیسا تُم چاہتے ہو کہ لوگ تُمہارے ساتھ کریں تُم بھی اُن کے ساتھ وَیسا ہی کروO
32 اگر تُم اپنے محُبّت رکھنے والوں ہی سے مُحبّت رکھّو تو تُمہارا کیا اِحسان ہے؟ کیونکہ گُنہگار بھی اپنے محُبّت رکھنے والوں سے مُحبّت رکھتے ہیںO 33 اور اگر تُم اُن ہی کا بَھلا کرو جو تُمہارا بَھلا کریں تو تُمہارا کیا اِحسان ہے؟ کیونکہ گُنہگار بھی اَیسا ہی کرتے ہیںO 34 اور اگر تُم اُن ہی کو قرض دو جِن سے وصُول ہونے کی اُمّید رکھتے ہو تو تُمہارا کیا اِحسان ہے؟ گُنہگاربھی گُنہگاروں کو قرض دیتے ہیں تاکہ پُورا وصُول کر لیںO 35 مگر تُم اپنے دُشمنوں سے مُحبّت رکھّو اور بَھلا کرو اور بغَیر نااُمّید ہُوئے قرض دو تو تُمہارا اَجر بڑا ہو گا اور تُم خُدا تعالےٰ کے بیٹے ٹھہرو گے کیونکہ وہ ناشُکروں اور بدوں پر بھی مِہربان ہےO

36 جَیسا تُمہارا باپ رحِیم ہے تُم بھی رحم دِل ہوO

عَیب جوئی

( متّی ۷‏:۱‏-۵)


37 عَیب جوئی نہ کروO تُمہاری بھی عَیب جوئی نہ کی جائے گی O مُجرِم نہ ٹھہراؤ O تُم بھی مُجرِم نہ ٹھہرائے جاؤ گے O خلاصی دو O تُم بھی خلاصی پاؤ گےO

38 دِیا کرو O تُمہیں بھی دِیا جائے گا O اچھّا پَیمانہ داب داب کر اور ہِلا ہِلا کر اور لبریز کر کے تُمہارے پلّے میں ڈالیں گے کیونکہ جِس پَیمانہ سے تُم ناپتے ہو اُسی سے تُمہارے لِئے ناپا جائے گاO
39 اور اُس نے اُن سے ایک تمثِیل بھی کہی کہ کیا اندھے کو اندھا راہ دِکھا سکتا ہے؟ کیا دونوں گڑھے میں نہ گِریں گے؟O

40 شاگِرد اپنے اُستاد سے بڑا نہیں بلکہ ہر ایک جب کامِل ہُؤا تو اپنے اُستاد جَیسا ہو گاO
41 تُو کیوں اپنے بھائی کی آنکھ کے تِنکے کو دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کے شہتِیر پر غَور نہیں کرتا؟O

42 اور جب تُو اپنی آنکھ کے شہتِیر کو نہیں دیکھتا تو اپنے بھائی سے کیوں کر کہہ سکتا ہے کہ بھائی لا اُس تِنکے کو جو تیری آنکھ میں ہے نِکال دُوں؟ اَے رِیاکار! پہلے اپنی آنکھ میں سے تو شہتِیر نِکال O پِھر اُس تِنکے کو جو تیرے بھائی کی آنکھ میں ہے اچھّی طرح دیکھ کر نِکال سکے گاO

درخت اور اُس کا پَھل

( متّی ۷: ۱۶‏-۲۰؛ ۱۲: ۳۳‏-۳۵)


43 کیونکہ کوئی اچھّا درخت نہیں جو بُرا پَھل لائے اور نہ کوئی بُرا درخت ہے جو اچھّا پَھل لائےO 44 ہر درخت اپنے پَھل سے پہچانا جاتا ہے کیونکہ جھاڑِیوں سے انجِیر نہیں توڑتے اور نہ جھڑبیری سے انگُورO

45 اچھّا آدمی اپنے دِل کے اچّھے خزانہ سے اچھّی چِیزیں نِکالتا ہے اور بُرا آدمی بُرے خزانہ سے بُری چِیزیں نِکالتا ہے کیونکہ جو دِل میں بھرا ہے وُہی اُس کے مُنہ پر آتا ہےO

دوگھر بنانے والے

(متّی ۷: ۲۴‏-۲۷)


46 جب تُم میرے کہنے پر عمل نہیں کرتے تو کیوں مُجھے خُداوند خُداوند کہتے ہو؟O 47 جو کوئی میرے پاس آتا اور میری باتیں سُن کر اُن پر عمل کرتا ہے مَیں تُمہیں جتاتا ہُوں کہ وہ کِس کی مانِند ہےO 48 وہ اُس آدمی کی مانِند ہے جِس نے گھر بناتے وقت زمِین گہری کھود کر چٹان پر بُنیاد ڈالی O جب طُوفان آیا اورسَیلاب اُس گھر سے ٹکرایا تو اُسے ہِلا نہ سکاکیونکہ وہ مضبُوط بنا ہُؤا تھاO 49 لیکن جو سُن کر عمل میں نہیں لاتا وہ اُس آدمی کی مانِند ہے جِس نے زمِین پر گھر کو بے بُنیاد بنایا O جب سَیلاب اُس پر زور سے آیا تو وہ فی الفَور گِر پڑا اور وہ گھر بِالکُل برباد ہُؤاO

Luke 6

Jesus Is Lord of the Sabbath

1 Now it happened that He was passing through some grainfields on a Sabbath; and His disciples were picking the heads of grain, rubbing them in their hands, and eating the grain. 2 But some of the Pharisees said, "Why do you do what is not lawful on the Sabbath?"3 And Jesus answering them said, "Have you not even read what David did when he was hungry, he and those who were with him,4 how he entered the house of God, and took and ate the tconsecrated bread which is not lawful for any to eat except the priests alone, and gave it to his companions?"5 And He was saying to them, "The Son of Man is Lord of the Sabbath."

6 On another Sabbath He entered the synagogue and was teaching; and there was a man there whose right hand was withered.7 The scribes and the Pharisees were watching Him closely to see if He healed on the Sabbath, so that they might find reason to accuse Him.8 But He knew what they were thinking, and He said to the man with the withered hand, "Get up and come forward!" And he got up and came forward.9 And Jesus said to them, "I ask you, is it lawful to do good or to do harm on the Sabbath, to save a life or to destroy it?"10 After looking around at them all, He said to him, "Stretch out your hand!" And he did so; and his hand was restored.11 But they themselves were filled with rage, and discussed together what they might do to Jesus.

Choosing the Twelve

12 It was at this time that He went off to the mountain to pray, and He spent the whole night in prayer to God.13 And when day came, He called His disciples to Him and chose twelve of them, whom He also named as apostles:14 Simon, whom He also named Peter, and Andrew his brother; and James and John; and Philip and Bartholomew;15 and Matthew and Thomas; James the son of Alphaeus, and Simon who was called the Zealot;16 Judas the son of James, and Judas Iscariot, who became a traitor.

17 Jesus came down with them and stood on a level place; and there was a large crowd of His disciples, and a great throng of people from all Judea and Jerusalem and the coastal region of Tyre and Sidon,18 who had come to hear Him and to be healed of their diseases; and those who were troubled with unclean spirits were being cured.19 And all the people were trying to touch Him, for power was coming from Him and healing them all.

The Beatitudes

20 And turning His gaze toward His disciples, He began to say, "Blessed are you who are poor, for yours is the kingdom of God.21 Blessed are you who hunger now, for you shall be satisfied. Blessed are you who weep now, for you shall laugh.22 Blessed are you when men hate you, and ostracize you, and insult you, and scorn your name as evil, for the sake of the Son of Man.23 Be glad in that day and leap for joy, for behold, your reward is great in heaven. For in the same way their fathers used to treat the prophets.24 But woe to you who are rich, for you are receiving your comfort in full.25 Woe to you who are well-fed now, for you shall be hungry. Woe to you who laugh now, for you shall mourn and weep.26 Woe to you when all men speak well of you, for their fathers used to treat the false prophets in the same way.

27 "But I say to you who hear, love your enemies, do good to those who hate you,28 bless those who curse you, pray for those who mistreat you.29 Whoever hits you on the cheek, offer him the other also; and whoever takes away your coat, do not withhold your shirt from him either.30 Give to everyone who asks of you, and whoever takes away what is yours, do not demand it back.31 Treat others the same way you want them to treat you.32 If you love those who love you, what credit is that to you? For even sinners love those who love them.33 If you do good to those who do good to you, what credit is that to you? For even sinners do the same.34 If you lend to those from whom you expect to receive, what credit is that to you? Even sinners lend to sinners in order to receive back the same amount.35 But love your enemies, and do good, and lend, expecting nothing in return; and your reward will be great, and you will be sons of the Most High; for He Himself is kind to ungrateful and evil men.36 Be merciful, just as your Father is merciful.

37 "Do not judge, and you will not be judged; and do not condemn, and you will not be condemned; pardon, and you will be pardoned.38 Give, and it will be given to you. They will pour into your lap a good measure-pressed down, shaken together, and running over. For by your standard of measure it will be measured to you in return."

39 And He also spoke a parable to them: "A blind man cannot guide a blind man, can he? Will they not both fall into a pit?40 A pupil is not above his teacher; but everyone, after he has been fully trained, will be like his teacher.41 Why do you look at the speck that is in your brother's eye, but do not notice the log that is in your own eye?42 Or how can you say to your brother, 'Brother, let me take out the speck that is in your eye,' when you yourself do not see the log that is in your own eye? You hypocrite, first take the log out of your own eye, and then you will see clearly to take out the speck that is in your brother's eye.43 For there is no good tree which produces bad fruit, nor, on the other hand, a bad tree which produces good fruit.44 For each tree is known by its own fruit. For men do not gather figs from thorns, nor do they pick grapes from a briar bush.45 The good man out of the good treasure of his heart brings forth what is good; and the evil man out of the evil treasure brings forth what is evil; for his mouth speaks from that which fills his heart.

Builders and Foundations

46 "Why do you call Me, 'Lord, Lord,' and do not do what I say?47 Everyone who comes to Me and hears My words and acts on them, I will show you whom he is like:48 he is like a man building a house, who dug deep and laid a foundation on the rock; and when a flood occurred, the torrent burst against that house and could not shake it, because it had been well built.49 But the one who has heard and has not acted accordingly, is like a man who built a house on the ground without any foundation; and the torrent burst against it and immediately it collapsed, and the ruin of that house was great."