previous next

لُوقا 7

یِسُوع رُومی صُوبہ دار کے نَوکر کو شِفا دیتا ہے

(متّی ۸: ۵‏-۱۳)

1 جب وہ لوگوں کو اپنی سب باتیں سُنا چُکا تو کَفر نحُو م میں آیاO 2 اور کِسی صُوبہ دار کا نَوکر جو اُس کو عزِیز تھا بِیماری سے مَرنے کو تھاO 3 اُس نے یِسُو ع کی خبر سُن کر یہُودِیوں کے کئی بزُرگوں کو اُس کے پاس بھیجا اور اُس سے درخواست کی کہ آ کر میرے نَوکر کو اچھّا کرO 4 وہ یِسُو ع کے پاس آئے اور اُس کی بڑی مِنّت کر کے کہنے لگے کہ وہ اِس لائِق ہے کہ تُو اُس کی خاطِر یہ کرےO

5 کیونکہ وہ ہماری قَوم سے مُحبّت رکھتا ہے اور ہمارے عِبادت خانہ کو اُسی نے بنوایاO
6 یِسُو ع اُن کے ساتھ چلا مگر جب وہ گھر کے قرِیب پُہنچا تو صُوبہ دار نے بعض دوستوں کی معرفت اُسے یہ کہلا بھیجا کہ اَے خُداوند تکلِیف نہ کر کیونکہ مَیں اِس لائِق نہیں کہ تُو میری چھت کے نِیچے آئےO 7 اِسی سبب سے مَیں نے اپنے آپ کو بھی تیرے پاس آنے کے لائِق نہ سمجھا بلکہ زُبان سے کہہ دے تو میرا خادِم شِفا پائے گاO

8 کیونکہ مَیں بھی دُوسرے کے اِختیار میں ہُوں اور سِپاہی میرے ماتحت ہیں اور جب ایک سے کہتا ہُوں جا تو وہ جاتا ہے اور دُوسرے سے آ تو وہ آتا ہے اور اپنے نَوکر سے کہ یہ کر تو وہ کرتا ہےO

9 یِسُو ع نے یہ سُن کر اُس پر تعجُّب کِیا اور پِھر کر اُس بِھیڑ سے جو اُس کے پِیچھے آتی تھی کہا مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ مَیں نے اَیسا اِیمان اِسرا ئیل میں بھی نہیں پایاO

10 اور بھیجے ہُوئے لوگوں نے گھر میں واپس آ کر اُس نَوکر کو تندرُست پایاO

یِسُوع بیوہ کے بیٹے کو مُردوں میں سے جِلاتاہے


11 تھوڑے عرصہ کے بعد اَیسا ہُؤا کہ وہ نائِین نام ایک شہر کو گیا اور اُس کے شاگِرد اور بُہت سے لوگ اُس کے ہمراہ تھےO 12 جب وہ شہر کے پھاٹک کے نزدِیک پُہنچا تو دیکھو ایک مُردہ کو باہر لِئے جاتے تھے O وہ اپنی ماں کا اِکلَوتا بیٹا تھا اور وہ بیوہ تھی اور شہر کے بُہتیرے لوگ اُس کے ساتھ تھےO 13 اُسے دیکھ کر خُداوند کو ترس آیا اور اُس سے کہا مت روO 14 پِھر اُس نے پاس آ کر جِنازہ کو چُھؤا اور اُٹھانے والے کھڑے ہو گئے اور اُس نے کہا اَے جوان مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں اُٹھO

15 وہ مُردہ اُٹھ بَیٹھا اور بولنے لگا اور اُس نے اُسے اُس کی ماں کو سَونپ دِیاO

16 اور سب پر دہشت چھا گئی اور وہ خُدا کی تمجِید کر کے کہنے لگے کہ ایک بڑا نبی ہم میں برپا ہُؤا ہے اور خُدا نے اپنی اُمّت پر توجُّہ کی ہےO

17 اور اُس کی نِسبت یہ خبر سارے یہُودیہ اور تمام گِرد ونواح میں پَھیل گئیO

یُوحنّا بپتسِمہ دینے والے کے قاصد

(متّی ۱۱: ۲‏-۱۹)


18 اور ےُوحنّا کو اُس کے شاگِردوں نے اِن سب باتوں کی خبر دیO

19 اِس پر ےُوحنّا نے اپنے شاگِردوں میں سے دو کو بُلا کر خُداوند کے پاس یہ پُوچھنے کو بھیجا کہ آنے والاتُو ہی ہے یا ہم دُوسرے کی راہ دیکھیں؟O

20 اُنہوں نے اُس کے پاس آ کرکہا ےُوحنّا بپتِسمہ دینے والے نے ہمیں تیرے پاس یہ پُوچھنے کو بھیجا ہے کہ آنے والا تُو ہی ہے یا ہم دُوسرے کی راہ دیکھیں؟O
21 اُسی گھڑی اُس نے بُہتوں کو بِیمارِیوں اور آفتوں اور بُری رُوحوں سے نجات بخشی اور بُہت سے اندھوں کو بِینائی عطا کیO 22 اُس نے جواب میں اُن سے کہا کہ جو کُچھ تُم نے دیکھا اور سُنا ہے جا کر یُوحنّا سے بیان کر دو کہ اندھے دیکھتے ہیں O لنگڑے چلتے پِھرتے ہیںO کوڑھی پاک صاف کِئے جاتے ہیں O بہرے سُنتے ہیں O مُردے زِندہ کِئے جاتے ہیں O غرِیبوں کو خُوشخبری سُنائی جاتی ہےO

23 اور مُبارک ہے وہ جو میرے سبب سے ٹھوکر نہ کھائےO
24 جب ےُوحنّا کے قاصِدچلے گئے تو یِسُو ع ےُوحنّا کے حق میں لوگوں سے کہنے لگا کہ تُم بیابان میں کیا دیکھنے گئے تھے؟ کیا ہوا سے ہِلتے ہُوئے سرکنڈے کو؟O 25 تو پِھر کیا دیکھنے گئے تھے؟ کیا مہِین کپڑے پہنے ہُوئے شخص کو؟ دیکھو جو چمک دار پوشاک پہنتے اور عَیش و عِشرت میں رہتے ہیں وہ بادشاہی محلّوں میں ہوتے ہیںO 26 تو پِھر تُم کیا دیکھنے گئے تھے؟ کیا ایک نبی؟ ہاں مَیں تُم سے کہتا ہُوں بلکہ نبی سے بڑے کوO 27 یہ وُہی ہے جِس کی بابت لِکھا ہے کہ دیکھ مَیں اپنا پَیغمبر تیرے آگے بھیجتا ہُوں جو تیری راہ تیرے آگے تیّار کرے گاO

28 مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ جو عَورتوں سے پَیدا ہُوئے ہیں اُن میں ےُوحنّا بپتِسمہ دینے والے سے کوئی بڑا نہیں لیکن جو خُدا کی بادشاہی میں چھوٹا ہے وہ اُس سے بڑا ہےO
29 اور سب عام لوگوں نے جب سُنا تو اُنہوں نے اور محصُول لینے والوں نے بھی ےُوحنّا کا بپتِسمہ لے کر خُدا کو راست باز مان لِیاO

30 مگر فریسیوں اور شرع کے عالِموں نے اُس سے بپتِسمہ نہ لے کر خُدا کے اِرادہ کو اپنی نِسبت باطِل کر دِیاO
31 پس اِس زمانہ کے آدمِیوں کو مَیں کِس سے تشبِیہ دُوں اور وہ کِس کی مانِند ہیں؟O 32 اُن لڑکوں کی مانِند ہیں جو بازار میں بَیٹھے ہُوئے ایک دُوسرے کو پُکار کر کہتے ہیں کہ ہم نے تُمہارے لِئے بانسلی بجائی اور تُم نہ ناچے O ہم نے ماتم کِیا اور تُم نہ روئےO 33 کیونکہ یُوحنّا بپتِسمہ دینے والا نہ تو روٹی کھاتا ہُؤا آیا نہ مَے پِیتا ہُؤا اور تُم کہتے ہو کہ اُس میں بدرُوح ہےO 34 اِبنِ آدم کھاتا پِیتا آیا اور تُم کہتے ہو کہ دیکھو کھاؤُ اور شرابی آدمی محصُول لینے والوں اور گُنہگاروں کا یارO

35 لیکن حِکمت اپنے سب لڑکوں کی طرف سے راست ثابِت ہُوئیO

یِسُوع شمعُون فریسی کے گھر میں


36 پِھر کِسی فریسی نے اُس سے درخواست کی کہ میرے ساتھ کھانا کھا O پس وہ اُس فریسی کے گھر جا کر کھانا کھانے بَیٹھاO 37 تو دیکھو ایک بدچلن عَورت جو اُس شہر کی تھی O یہ جان کر کہ وہ اُس فریسی کے گھر میں کھانا کھانے بَیٹھا ہے سنگِ مرمر کے عِطردان میں عِطر لائیO 38 اور اُس کے پاؤں کے پاس روتی ہُوئی پِیچھے کھڑی ہو کر اُس کے پاؤں آنسُوؤں سے بھگونے لگی اور اپنے سر کے بالوں سے اُن کو پونچھا اور اُس کے پاؤں بُہت چُومے اور اُن پر عِطر ڈالاO

39 اُس کی دعوت کرنے والا فریسی یہ دیکھ کر اپنے جی میں کہنے لگا کہ اگر یہ شخص نبی ہوتا تو جانتا کہ جو اُسے چُھوتی ہے وہ کَون اور کَیسی عَورت ہے کیونکہ بدچلن ہےO

40 یِسُو ع نے جواب میں اُس سے کہا اَے شمعُو ن مُجھے تُجھ سے کُچھ کہنا ہے O
اُس نے کہا اَے اُستاد کہہO
41 کِسی ساہُوکار کے دو قرض دار تھے O ایک پانسَو دِینار کا دُوسرا پچاس کاO

42 جب اُن کے پاس ادا کرنے کو کُچھ نہ رہا تو اُس نے دونوں کو بخش دِیا O پس اُن میں سے کَون اُس سے زِیادہ مُحبّت رکھّے گا؟O

43 شمعُو ن نے جواب میں کہا میری دانِست میں وہ جِسے اُس نے زِیادہ بخشا O
اُس نے اُس سے کہا تُو نے ٹِھیک فَیصلہ کِیاO
44 اور اُس عَورت کی طرف پِھر کر اُس نے شمعُو ن سے کہا کیا تُو اِس عَورت کو دیکھتا ہے؟ مَیں تیرے گھر مَیں آیاO تُو نے میرے پاؤں دھونے کو پانی نہ دِیا مگر اِس نے میرے پاؤں آنسُوؤں سے بھگو دِئے اور اپنے بالوں سے پونچھےO 45 تُو نے مُجھ کو بوسہ نہ دِیا مگر اِس نے جب سے مَیں آیا ہُوں میرے پاؤں چُومنا نہ چھوڑاO 46 تُو نے میرے سر میں تیل نہ ڈالا مگر اِس نے میرے پاؤں پر عِطر ڈالا ہےO

47 اِسی لِئے مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں کہ اِس کے گُناہ جو بُہت تھے مُعاف ہُوئے کیونکہ اِس نے بُہت محُبّت کی مگر جِس کے تھوڑے گُناہ مُعاف ہُوئے وہ تھوڑی محُبّت کرتا ہےO

48 اور اُس عَورت سے کہا تیرے گُناہ مُعاف ہُوئےO

49 اِس پر وہ جو اُس کے ساتھ کھانا کھانے بَیٹھے تھے اپنے جی میں کہنے لگے کہ یہ کَون ہے جو گُناہ بھی مُعاف کرتا ہے ؟O
50 مگر اُس نے عَورت سے کہا تیرے اِیمان نے تُجھے بچا لِیا ہے O سلامت چلی جاO

Luke 7

Jesus Heals a Centurion's Servant

1 When He had completed all His discourse in the hearing of the people, He went to Capernaum.

2 And a centurion's slave, who was highly regarded by him, was sick and about to die.3 When he heard about Jesus, he sent some Jewish elders asking Him to come and save the life of his slave.4 When they came to Jesus, they earnestly implored Him, saying, "He is worthy for You to grant this to him;5 for he loves our nation and it was he who built us our synagogue."6 Now Jesus started on His way with them; and when He was not far from the house, the centurion sent friends, saying to Him, "Lord, do not trouble Yourself further, for I am not worthy for You to come under my roof;7 for this reason I did not even consider myself worthy to come to You, but just say the word, and my servant will be healed.8 For I also am a man placed under authority, with soldiers under me; and I say to this one, 'Go!' and he goes, and to another, 'Come!' and he comes, and to my slave, 'Do this!' and he does it."9 Now when Jesus heard this, He marveled at him, and turned and said to the crowd that was following Him, "I say to you, not even in Israel have I found such great faith."10 When those who had been sent returned to the house, they found the slave in good health.

11 Soon afterwards He went to a city called Nain; and His disciples were going along with Him, accompanied by a large crowd.12 Now as He approached the gate of the city, a dead man was being carried out, the only son of his mother, and she was a widow; and a sizeable crowd from the city was with her.13 When the Lord saw her, He felt compassion for her, and said to her, "Do not weep."14 And He came up and touched the coffin; and the bearers came to a halt. And He said, "Young man, I say to you, arise!"15 The dead man sat up and began to speak. And Jesus gave him back to his mother.16 Fear gripped them all, and they began glorifying God, saying, "A great prophet has arisen among us!" and, "God has visited His people!"17 This report concerning Him went out all over Judea and in all the surrounding district.

A Deputation from John

18 The disciples of John reported to him about all these things.19 Summoning two of his disciples, John sent them to the Lord, saying, "Are You the Expected One, or do we look for someone else?"20 When the men came to Him, they said, "John the Baptist has sent us to You, to ask, 'Are You the Expected One, or do we look for someone else?'"21 At that very time He cured many people of diseases and afflictions and evil spirits; and He gave sight to many who were blind.22 And He answered and said to them, "Go and report to John what you have seen and heard: the BLIND RECEIVE SIGHT, the lame walk, the lepers are cleansed, and the deaf hear, the dead are raised up, the POOR HAVE THE GOSPEL PREACHED TO THEM.23 Blessed is he who does not take offense at Me."

24 When the messengers of John had left, He began to speak to the crowds about John, "What did you go out into the wilderness to see? A reed shaken by the wind?25 But what did you go out to see? A man dressed in soft clothing? Those who are splendidly clothed and live in luxury are found in royal palaces!26 But what did you go out to see? A prophet? Yes, I say to you, and one who is more than a prophet.27 This is the one about whom it is written,
'BEHOLD, I SEND MY MESSENGER AHEAD OF YOU,
WHO WILL PREPARE YOUR WAY BEFORE YOU.'
28 I say to you, among those born of women there is no one greater than John; yet he who is least in the kingdom of God is greater than he."29 When all the people and the tax collectors heard this, they acknowledged God's justice, having been baptized with the baptism of John.30 But the Pharisees and the tlawyers rejected God's purpose for themselves, not having been baptized by John.

31 "To what then shall I compare the men of this generation, and what are they like?32 They are like children who sit in the market place and call to one another, and they say, 'We played the flute for you, and you did not dance; we sang a dirge, and you did not weep.'33 For John the Baptist has come eating no bread and drinking no wine, and you say, 'He has a demon!'34 The Son of Man has come eating and drinking, and you say, 'Behold, a gluttonous man and a drunkard, a friend of tax collectors and sinners!'35 Yet wisdom is vindicated by all her children."

36 Now one of the Pharisees was requesting Him to dine with him, and He entered the Pharisee's house and reclined at the table. 37 And there was a woman in the city who was a sinner; and when she learned that He was reclining at the table in the Pharisee's house, she brought an alabaster vial of perfume,38 and standing behind Him at His feet, weeping, she began to wet His feet with her tears, and kept wiping them with the hair of her head, and kissing His feet and anointing them with the perfume.39 Now when the Pharisee who had invited Him saw this, he said to himself, "If this man were a prophet He would know who and what sort of person this woman is who is touching Him, that she is a sinner."

Parable of Two Debtors

40 And Jesus answered him, "Simon, I have something to say to you." And he replied, "Say it, Teacher."41 "A moneylender had two debtors: one owed five hundred tdenarii, and the other fifty.42 When they were unable to repay, he graciously forgave them both. So which of them will love him more?"43 Simon answered and said, "I suppose the one whom he forgave more." And He said to him, "You have judged correctly."44 Turning toward the woman, He said to Simon, "Do you see this woman? I entered your house; you gave Me no water for My feet, but she has wet My feet with her tears and wiped them with her hair.45 You gave Me no kiss; but she, since the time I came in, has not ceased to kiss My feet.46 You did not anoint My head with oil, but she anointed My feet with perfume.47 For this reason I say to you, her sins, which are many, have been forgiven, for she loved much; but he who is forgiven little, loves little."48 Then He said to her, "Your sins have been forgiven."49 Those who were reclining at the table with Him began to say to themselves, "Who is this man who even forgives sins?"50 And He said to the woman, "Your faith has saved you; go in peace."