متی 6
1 خبردار! اپنے نیک کام لوگوں کے سامنے دکھاوے کے لئے نہ کرو، ورنہ تم کو اپنے آسمانی باپ سے کوئی اجر نہیں ملے گا۔2 چنانچہ خیرات دیتے وقت ریاکاروں کی طرح نہ کر جو عبادت خانوں اور گلیوں میں بِگل بجا کر اِس کا اعلان کرتے ہیں تاکہ لوگ اُن کی عزت کریں۔ مَیں تم کو سچ بتاتا ہوں، جتنا اجر اُنہیں ملنا تھا اُنہیں مل چکا ہے۔3 اِس کے بجائے جب تُو خیرات دے تو تیرے دائیں ہاتھ کو پتا نہ چلے کہ بایاں ہاتھ کیا کر رہا ہے۔4 تیری خیرات یوں پوشیدگی میں دی جائے تو تیرا باپ جو پوشیدہ باتیں دیکھتا ہے تجھے اِس کا معاوضہ دے گا۔5 دعا کرتے وقت ریاکاروں کی طرح نہ کرنا جو عبادت خانوں اور چوکوں میں جا کر دعا کرنا پسند کرتے ہیں، جہاں سب اُنہیں دیکھ سکیں۔ مَیں تم کو سچ بتاتا ہوں، جتنا اجر اُنہیں ملنا تھا اُنہیں مل چکا ہے۔6 اِس کے بجائے جب تُو دعا کرتا ہے تو اندر کے کمرے میں جا کر دروازہ بند کر اور پھر اپنے باپ سے دعا کر جو پوشیدگی میں ہے۔ پھر تیرا باپ جو پوشیدہ باتیں دیکھتا ہے تجھے اِس کا معاوضہ دے گا۔7 دعا کرتے وقت غیریہودیوں کی طرح طویل اور بےمعنی باتیں نہ دہراتے رہو۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہماری بہت سی باتوں کے سبب سے ہماری سنی جائے گی۔8 اُن کی مانند نہ بنو، کیونکہ تمہارا باپ پہلے سے تمہاری ضروریات سے واقف ہے،9 بلکہ یوں دعا کیا کرو، اے ہمارے آسمانی باپ، تیرا نام مُقدّس مانا جائے۔10 تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جس طرح آسمان میں پوری ہوتی ہے زمین پر بھی پوری ہو۔11 ہماری روز کی روٹی آج ہمیں دے۔12 ہمارے گناہوں کو معاف کر جس طرح ہم نے اُنہیں معاف کیا جنہوں نے ہمارا گناہ کیا ہے۔13 اور ہمیں آزمائش میں نہ پڑنے دے بلکہ ہمیں ابلیس سے بچائے رکھ۔ [کیونکہ بادشاہی، قدرت اور جلال ابد تک تیرے ہی ہیں۔]14 کیونکہ جب تم لوگوں کے گناہ معاف کرو گے تو تمہارا آسمانی باپ بھی تم کو معاف کرے گا۔15 لیکن اگر تم اُنہیں معاف نہ کرو تو تمہارا باپ بھی تمہارے گناہ معاف نہیں کرے گا۔16 روزہ رکھتے وقت ریاکاروں کی طرح منہ لٹکائے نہ پھرو، کیونکہ وہ ایسا روپ بھرتے ہیں تاکہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ وہ روزہ سے ہیں۔ مَیں تم کو سچ بتاتا ہوں، جتنا اجر اُنہیں ملنا تھا اُنہیں مل چکا ہے۔17 ایسا مت کرنا بلکہ روزہ کے وقت اپنے بالوں میں تیل ڈال اور اپنا منہ دھو۔18 پھر لوگوں کو معلوم نہیں ہو گا کہ تُو روزہ سے ہے بلکہ صرف تیرے باپ کو جو پوشیدگی میں ہے۔ اور تیرا باپ جو پوشیدہ باتیں دیکھتا ہے تجھے اِس کا معاوضہ دے گا۔19 اِس دنیا میں اپنے لئے خزانے جمع نہ کرو، جہاں کیڑا اور زنگ اُنہیں کھا جاتے اور چور نقب لگا کر چُرا لیتے ہیں۔20 اِس کے بجائے اپنے خزانے آسمان پر جمع کرو جہاں کیڑا اور زنگ اُنہیں تباہ نہیں کر سکتے، نہ چور نقب لگا کر چُرا سکتے ہیں۔21 کیونکہ جہاں تیرا خزانہ ہے وہیں تیرا دل بھی لگا رہے گا۔22 بدن کا چراغ آنکھ ہے۔ اگر تیری آنکھ ٹھیک ہو تو پھر تیرا پورا بدن روشن ہو گا۔23 لیکن اگر تیری آنکھ خراب ہو تو تیرا پورا بدن اندھیرا ہی اندھیرا ہو گا۔ اور اگر تیرے اندر کی روشنی تاریکی ہو تو یہ تاریکی کتنی شدید ہو گی!24 کوئی بھی دو مالکوں کی خدمت نہیں کر سکتا۔ یا تو وہ ایک سے نفرت کر کے دوسرے سے محبت رکھے گا یا ایک سے لپٹ کر دوسرے کو حقیر جانے گا۔ تم ایک ہی وقت میں اللہ اور دولت کی خدمت نہیں کر سکتے۔25 اِس لئے مَیں تمہیں بتاتا ہوں، اپنی زندگی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے پریشان نہ رہو کہ ہائے، مَیں کیا کھاؤں اور کیا پیؤں۔ اور جسم کے لئے فکرمند نہ رہو کہ ہائے، مَیں کیا پہنوں۔ کیا زندگی کھانے پینے سے اہم نہیں ہے؟ اور کیا جسم پوشاک سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا؟26 پرندوں پر غور کرو۔ نہ وہ بیج بوتے، نہ فصلیں کاٹ کر اُنہیں گودام میں جمع کرتے ہیں۔ تمہارا آسمانی باپ خود اُنہیں کھانا کھلاتا ہے۔ کیا تمہاری اُن کی نسبت زیادہ قدر و قیمت نہیں ہے؟27 کیا تم میں سے کوئی فکر کرتے کرتے اپنی زندگی میں ایک لمحے کا بھی اضافہ کر سکتا ہے؟28 اور تم اپنے کپڑوں کے لئے کیوں فکرمند ہوتے ہو؟ غور کرو کہ سوسن کے پھول کس طرح اُگتے ہیں۔ نہ وہ محنت کرتے، نہ کاتتے ہیں۔29 لیکن مَیں تمہیں بتاتا ہوں کہ سلیمان بادشاہ اپنی پوری شان و شوکت کے باوجود ایسے شاندار کپڑوں سے ملبّس نہیں تھا جیسے اُن میں سے ایک۔30 اگر اللہ اُس گھاس کو جو آج میدان میں ہے اور کل آگ میں جھونکی جائے گی ایسا شاندار لباس پہناتا ہے تو اے کم اعتقادو، وہ تم کو پہنانے کے لئے کیا کچھ نہیں کرے گا؟31 چنانچہ پریشانی کے عالم میں فکر کرتے کرتے یہ نہ کہتے رہو، ’ہم کیا کھائیں؟ ہم کیا پئیں؟ ہم کیا پہنیں؟‘32 کیونکہ جو ایمان نہیں رکھتے وہی اِن تمام چیزوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں جبکہ تمہارے آسمانی باپ کو پہلے سے معلوم ہے کہ تم کو اِن تمام چیزوں کی ضرورت ہے۔33 پہلے اللہ کی بادشاہی اور اُس کی راست بازی کی تلاش میں رہو۔ پھر یہ تمام چیزیں بھی تم کو مل جائیں گی۔34 اِس لئے کل کے بارے میں فکر کرتے کرتے پریشان نہ ہو کیونکہ کل کا دن اپنے لئے آپ فکر کر لے گا۔ ہر دن کی اپنی مصیبتیں کافی ہیں۔
Matthew 6
1 Take heed that ye do not your righteousness before men, to be seen of them: else ye have no reward with your Father who is in heaven.2 When therefore thou doest alms, sound not a trumpet before thee, as the hypocrites do in the synagogues and in the streets, that they may have glory of men. Verily I say unto you, They have received their reward.3 But when thou doest alms, let not thy left hand know what thy right hand doeth:4 that thine alms may be in secret: and thy Father who seeth in secret shall recompense thee.
5 And when ye pray, ye shall not be as the hypocrites: for they love to stand and pray in the synagogues and in the corners of the streets, that they may be seen of men. Verily I say unto you, They have received their reward.6 But thou, when thou prayest, enter into thine inner chamber, and having shut thy door, pray to thy Father who is in secret, and thy Father who seeth in secret shall recompense thee.7 And in praying use not vain repetitions, as the Gentiles do: for they think that they shall be heard for their much speaking.8 Be not therefore like unto them: for your Father knoweth what things ye have need of, before ye ask him.9 After this manner therefore pray ye. Our Father who art in heaven, Hallowed be thy name.10 Thy kingdom come. Thy will be done, as in heaven, so on earth.11 Give us this day our daily bread.12 And forgive us our debts, as we also have forgiven our debtors.13 And bring us not into temptation, but deliver us from the evil one.14 For if ye forgive men their trespasses, your heavenly Father will also forgive you.15 But if ye forgive not men their trespasses, neither will your Father forgive your trespasses.
16 Moreover when ye fast, be not, as the hypocrites, of a sad countenance: for they disfigure their faces, that they may be seen of men to fast. Verily I say unto you, They have received their reward.17 But thou, when thou fastest, anoint thy head, and wash thy face;18 that thou be not seen of men to fast, but of thy Father who is in secret: and thy Father, who seeth in secret, shall recompense thee.
19 Lay not up for yourselves treasures upon the earth, where moth and rust consume, and where thieves break through and steal:20 but lay up for yourselves treasures in heaven, where neither moth nor rust doth consume, and where thieves do not break through nor steal:21 for where thy treasure is, there will thy heart be also.22 The lamp of the body is the eye: if therefore thine eye be single, thy whole body shall be full of light.23 But if thine eye be evil, thy whole body shall be full of darkness. If therefore the light that is in thee be darkness, how great is the darkness!24 No man can serve two masters; for either he will hate the one, and love the other; or else he will hold to one, and despise the other. Ye cannot serve God and mammon.25 Therefore I say unto you, be not anxious for your life, what ye shall eat, or what ye shall drink; nor yet for your body, what ye shall put on. Is not the life more than the food, and the body than the raiment?26 Behold the birds of the heaven, that they sow not, neither do they reap, nor gather into barns; and your heavenly Father feedeth them. Are not ye of much more value then they?27 And which of you by being anxious can add one cubit unto the measure of his life?28 And why are ye anxious concerning raiment? Consider the lilies of the field, how they grow; they toil not, neither do they spin:29 yet I say unto you, that even Solomon in all his glory was not arrayed like one of these.30 But if God doth so clothe the grass of the field, which to-day is, and to-morrow is cast into the oven, shall he not much more clothe you, O ye of little faith?31 Be not therefore anxious, saying, What shall we eat? or, What shall we drink? or, Wherewithal shall we be clothed?32 For after all these things do the Gentiles seek; for your heavenly Father knoweth that ye have need of all these things.33 But seek ye first his kingdom, and his righteousness; and all these things shall be added unto you.34 Be not therefore anxious for the morrow: for the morrow will be anxious for itself. Sufficient unto the day is the evil thereof.