فلپیوں 3
1 میرے بھائیو، جو کچھ بھی ہو، خداوند میں خوش رہیں۔ مَیں آپ کو یہ بات بتاتے رہنے سے کبھی تھکتا نہیں، کیونکہ ایسا کرنے سے آپ محفوظ رہتے ہیں۔2 کتوں سے خبردار! اُن شریر مزدوروں سے ہوشیار رہنا جو جسم کی کانٹ چھانٹ یعنی ختنہ کرواتے ہیں۔3 کیونکہ ہم ہی حقیقی ختنہ کے پیروکار ہیں، ہم ہی ہیں جو اللہ کے روح میں پرستش کرتے، مسیح عیسیٰ پر فخر کرتے اور انسانی خوبیوں پر بھروسا نہیں کرتے۔4 بات یہ نہیں کہ میرا اپنی انسانی خوبیوں پر بھروسا کرنے کا کوئی جواز نہ ہوتا۔ جب دوسرے اپنی انسانی خوبیوں پر فخر کرتے ہیں تو مَیں اُن کی نسبت زیادہ کر سکتا ہوں۔5 میرا ختنہ ہوا جب مَیں ابھی آٹھ دن کا بچہ تھا۔ مَیں اسرائیل قوم کے قبیلے بن یمین کا ہوں، ایسا عبرانی جس کے والدین بھی عبرانی تھے۔ مَیں فریسیوں کا ممبر تھا جو یہودی شریعت کے کٹر پیروکار ہیں۔6 مَیں اِتنا سرگرم تھا کہ مسیح کی جماعتوں کو ایذا پہنچائی۔ ہاں، مَیں شریعت پر عمل کرنے میں راست باز اور بےالزام تھا۔7 اُس وقت یہ سب کچھ میرے نزدیک نفع کا باعث تھا، لیکن اب مَیں اِسے مسیح میں ہونے کے باعث نقصان ہی سمجھتا ہوں۔8 ہاں، بلکہ مَیں سب کچھ اِس عظیم ترین بات کے سبب سے نقصان سمجھتا ہوں کہ مَیں اپنے خداوند مسیح عیسیٰ کو جانتا ہوں۔ اُسی کی خاطر مجھے تمام چیزوں کا نقصان پہنچا ہے۔ مَیں اُنہیں کُوڑا ہی سمجھتا ہوں تاکہ مسیح کو حاصل کروں9 اور اُس میں پایا جاؤں۔ لیکن مَیں اِس نوبت تک اپنی اُس راست بازی کے ذریعے نہیں پہنچ سکتا جو شریعت کے تابع رہنے سے حاصل ہوتی ہے۔ اِس کے لئے وہ راست بازی ضروری ہے جو مسیح پر ایمان لانے سے ملتی ہے، جو اللہ کی طرف سے ہے اور جو ایمان پر مبنی ہوتی ہے۔10 ہاں، مَیں سب کچھ کُوڑا ہی سمجھتا ہوں تاکہ مسیح کو، اُس کے جی اُٹھنے کی قدرت اور اُس کے دُکھوں میں شریک ہونے کا فضل جان لوں۔ یوں مَیں اُس کی موت کا ہم شکل بنتا جا رہا ہوں،11 اِس اُمید میں کہ مَیں کسی نہ کسی طرح مُردوں میں سے جی اُٹھنے کی نوبت تک پہنچوں گا۔12 مطلب یہ نہیں کہ مَیں یہ سب کچھ حاصل کر چکا یا کامل ہو چکا ہوں۔ لیکن مَیں منزلِ مقصود کی طرف دوڑا ہوا جاتا ہوں تاکہ وہ کچھ پکڑ لوں جس کے لئے مسیح عیسیٰ نے مجھے پکڑ لیا ہے۔13 بھائیو، مَیں اپنے بارے میں یہ خیال نہیں کرتا کہ مَیں اِسے حاصل کر چکا ہوں۔ لیکن مَیں اِس ایک ہی بات پر دھیان دیتا ہوں، جو کچھ میرے پیچھے ہے وہ مَیں بھول کر سخت تگ و دَو کے ساتھ اُس طرف بڑھتا ہوں جو آگے پڑا ہے۔14 مَیں سیدھا منزلِ مقصود کی طرف دوڑا ہوا جاتا ہوں تاکہ وہ انعام حاصل کروں جس کے لئے اللہ نے مجھے مسیح عیسیٰ میں آسمان پر بُلایا ہے۔15 چنانچہ ہم میں سے جتنے کامل ہیں آئیں، ہم ایسی سوچ رکھیں۔ اور اگر آپ کسی بات میں فرق سوچتے ہیں تو اللہ آپ پر یہ بھی ظاہر کرے گا۔16 جو بھی ہو، جس مرحلے تک ہم پہنچ گئے ہیں آئیں، ہم اُس کے مطابق زندگی گزاریں۔17 بھائیو، مل کر میرے نقشِ قدم پر چلیں۔ اور اُن پر خوب دھیان دیں جو ہمارے نمونے پر چلتے ہیں۔18 کیونکہ جس طرح مَیں نے آپ کو کئی بار بتایا ہے اور اب رو رو کر بتا رہا ہوں، بہت سے لوگ اپنے چال چلن سے ظاہر کرتے ہیں کہ وہ مسیح کی صلیب کے دشمن ہیں۔19 ایسے لوگوں کا انجام ہلاکت ہے۔ کھانے پینے کی پابندیاں اور ختنے پر فخر اُن کا خدا بن گیا ہے۔ ہاں، وہ صرف دنیاوی سوچ رکھتے ہیں۔20 لیکن ہم آسمان کے شہری ہیں، اور ہم شدت سے اِس انتظار میں ہیں کہ ہمارا نجات دہندہ اور خداوند عیسیٰ مسیح وہیں سے آئے۔21 اُس وقت وہ ہمارے پست حال بدنوں کو بدل کر اپنے جلالی بدن کے ہم شکل بنا دے گا۔ اور یہ وہ اُس قوت کے ذریعے کرے گا جس سے وہ تمام چیزیں اپنے تابع کر سکتا ہے۔
Philippians 3
1 Finally, my brethren, rejoice in the Lord. To write the same things to you, to me indeed is not irksome, but for you it is safe.2 Beware of the dogs, beware of the evil workers, beware of the concision:3 for we are the circumcision, who worship by the Spirit of God, and glory in Christ Jesus, and have no confidence in the flesh:4 though I myself might have confidence even in the flesh: if any other man thinketh to have confidence in the flesh, I yet more:5 circumcised the eighth day, of the stock of Israel, of the tribe of Benjamin, a Hebrew of Hebrews; as touching the law, a Pharisee;6 as touching zeal, persecuting the church; as touching the righteousness which is in the law, found blameless.7 Howbeit what things were gain to me, these have I counted loss for Christ.8 Yea verily, and I count all things to be loss for the excellency of the knowledge of Christ Jesus my Lord: for whom I suffered the loss of all things, and do count them but refuse, that I may gain Christ,9 and be found in him, not having a righteousness of mine own, even that which is of the law, but that which is through faith in Christ, the righteousness which is from God by faith:10 that I may know him, and the power of his resurrection, and the fellowship of his sufferings, becoming conformed unto his death;11 if by any means I may attain unto the resurrection from the dead.12 Not that I have already obtained, or am already made perfect: but I press on, if so be that I may lay hold on that for which also I was laid hold on by Christ Jesus.13 Brethren, I could not myself yet to have laid hold: but one thing I do, forgetting the things which are behind, and stretching forward to the things which are before,14 I press on toward the goal unto the prize of the high calling of God in Christ Jesus.15 Let us therefore, as many as are perfect, be thus minded: and if in anything ye are otherwise minded, this also shall God reveal unto you:16 only, whereunto we have attained, by that same rule let us walk.17 Brethren, be ye imitators together of me, and mark them that so walk even as ye have us for an ensample.18 For many walk, of whom I told you often, and now tell you even weeping, that they are the enemies of the cross of Christ:19 whose end is perdition, whose god is the belly, and whose glory is in their shame, who mind earthly things.20 For our citizenship is in heaven; whence also we wait for a Saviour, the Lord Jesus Christ:21 who shall fashion anew the body of our humiliation, that it may be conformed to the body of his glory, according to the working whereby he is able even to subject all things unto himself.