فلپیوں 4
1 چنانچہ میرے پیارے بھائیو، جن کا آرزومند مَیں ہوں اور جو میری مسرت کا باعث اور میرا تاج ہیں، خداوند میں ثابت قدم رہیں۔ عزیزو،2 مَیں یوؤدیہ اور سنتخے سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ خداوند میں ایک جیسی سوچ رکھیں۔3 ہاں میرے ہم خدمت بھائی، میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ اُن کی مدد کریں۔ کیونکہ وہ اللہ کی خوش خبری پھیلانے کی جد و جہد میں میرے ساتھ خدمت کرتی رہی ہیں، اُس مقابلے میں جس میں کلیمینس اور میرے وہ باقی مددگار بھی شریک تھے جن کے نام کتابِ حیات میں درج ہیں۔4 ہر وقت خداوند میں خوشی منائیں۔ ایک بار پھر کہتا ہوں، خوشی منائیں۔5 آپ کی نرم دلی تمام لوگوں پر ظاہر ہو۔ یاد رکھیں کہ خداوند آنے کو ہے۔6 اپنی کسی بھی فکر میں اُلجھ کر پریشان نہ ہو جائیں بلکہ ہر حالت میں دعا اور التجا کر کے اپنی درخواستیں اللہ کے سامنے پیش کریں۔ دھیان رکھیں کہ آپ یہ شکرگزاری کی روح میں کریں۔7 پھر اللہ کی سلامتی جو سمجھ سے باہر ہے آپ کے دلوں اور خیالات کو مسیح عیسیٰ میں محفوظ رکھے گی۔8 بھائیو، ایک آخری بات، جو کچھ سچا ہے، جو کچھ شریف ہے، جو کچھ راست ہے، جو کچھ مُقدّس ہے، جو کچھ پسندیدہ ہے، جو کچھ عمدہ ہے، غرض، اگر کوئی اخلاقی یا قابلِ تعریف بات ہو تو اُس کا خیال رکھیں۔9 جو کچھ آپ نے میرے وسیلے سے سیکھ لیا، حاصل کر لیا، سن لیا یا دیکھ لیا ہے اُس پر عمل کریں۔ پھر سلامتی کا خدا آپ کے ساتھ ہو گا۔10 مَیں خداوند میں نہایت ہی خوش ہوا کہ اب آخرکار آپ کی میرے لئے فکرمندی دوبارہ جاگ اُٹھی ہے۔ ہاں، مجھے پتا ہے کہ آپ پہلے بھی فکرمند تھے، لیکن آپ کو اِس کا اظہار کرنے کا موقع نہیں ملا تھا۔11 مَیں یہ اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے نہیں کہہ رہا، کیونکہ مَیں نے ہر حالت میں خوش رہنے کا راز سیکھ لیا ہے۔12 مجھے دبائے جانے کا تجربہ ہوا ہے اور ہر چیز کثرت سے میسر ہونے کا بھی۔ مجھے ہر حالت سے خوب واقف کیا گیا ہے، سیر ہونے سے اور بھوکا رہنے سے بھی، ہر چیز کثرت سے میسر ہونے سے اور ضرورت مند ہونے سے بھی۔13 مسیح میں مَیں سب کچھ کرنے کے قابل ہوں، کیونکہ وہی مجھے تقویت دیتا رہتا ہے۔14 توبھی اچھا تھا کہ آپ میری مصیبت میں شریک ہوئے۔15 آپ جو فلپی کے رہنے والے ہیں خود جانتے ہیں کہ اُس وقت جب مسیح کی منادی کا کام آپ کے علاقے میں شروع ہوا تھا اور مَیں صوبہ مکدُنیہ سے نکل آیا تھا تو صرف آپ کی جماعت پورے حساب کتاب کے ساتھ پیسے دے کر میری خدمت میں شریک ہوئی۔16 اُس وقت بھی جب مَیں تھسلُنیکے شہر میں تھا آپ نے کئی بار میری ضروریات پوری کرنے کے لئے کچھ بھیج دیا۔17 کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ مَیں آپ سے کچھ پانا چاہتا ہوں، بلکہ میری شدید خواہش یہ ہے کہ آپ کے دینے سے آپ ہی کو اللہ سے کثرت کا سود مل جائے۔18 یہی میری رسید ہے۔ مَیں نے پوری رقم وصول پائی ہے بلکہ اب میرے پاس ضرورت سے زیادہ ہے۔ جب سے مجھے اِپَفرُدِتس کے ہاتھ آپ کا ہدیہ مل گیا ہے میرے پاس بہت کچھ ہے۔ یہ خوشبودار اور قابلِ قبول قربانی اللہ کو پسندیدہ ہے۔19 جواب میں میرا خدا اپنی اُس جلالی دولت کے موافق جو مسیح عیسیٰ میں ہے آپ کی تمام ضروریات پوری کرے۔20 اللہ ہمارے باپ کا جلال ازل سے ابد تک ہو۔ آمین۔21 تمام مقامی مُقدّسین کو مسیح عیسیٰ میں میرا سلام دینا۔ جو بھائی میرے ساتھ ہیں وہ آپ کو سلام کہتے ہیں۔22 یہاں کے تمام مُقدّسین آپ کو سلام کہتے ہیں، خاص کر شہنشاہ کے گھرانے کے بھائی اور بہنیں۔23 خداوند عیسیٰ مسیح کا فضل آپ کی روح کے ساتھ رہے۔ آمین۔
Philippians 4
1 Wherefore, my brethren beloved and longed for, my joy and crown, so stand fast in the Lord, my beloved.2 I exhort Euodia, and I exhort Syntyche, to be of the same mind in the Lord.3 Yea, I beseech thee also, true yokefellow, help these women, for they labored with me in the gospel, with Clement also, and the rest of my fellow-workers, whose names are in the book of life.4 Rejoice in the Lord always: again I will say, Rejoice.5 Let your forbearance be known unto all men. The Lord is at hand.6 In nothing be anxious; but in everything by prayer and supplication with thanksgiving let your requests be made known unto God.7 And the peace of God, which passeth all understanding, shall guard your hearts and your thoughts in Christ Jesus.8 Finally, brethren, whatsoever things are true, whatsoever things are honorable, whatsoever things are just, whatsoever things are pure, whatsoever things are lovely, whatsoever things are of good report; if there be any virtue, and if there be any praise, think on these things.9 The things which ye both learned and received and heard and saw in me, these things do: and the God of peace shall be with you.10 But I rejoice in the Lord greatly, that now at length ye have revived your thought for me; wherein ye did indeed take thought, but ye lacked opportunity.11 Not that I speak in respect of want: for I have learned, in whatsoever state I am, therein to be content.12 I know how to be abased, and I know also how to abound: in everything and in all things have I learned the secret both to be filled and to be hungry, both to abound and to be in want.13 I can do all things in him that strengtheneth me.14 Howbeit ye did well that ye had fellowship with my affliction.15 And ye yourselves also know, ye Philippians, that in the beginning of the gospel, when I departed from Macedonia, no church had fellowship with me in the matter of giving and receiving but ye only;16 for even in Thessalonica ye sent once and again unto my need.17 Not that I seek for the gift; but I seek for the fruit that increaseth to your account.18 But I have all things, and abound: I am filled, having received from Epaphroditus the things that came from you, and odor of a sweet smell, a sacrifice acceptable, well-pleasing to God.19 And my God shall supply every need of yours according to his riches in glory in Christ Jesus.20 Now unto our God and Father be the glory for ever and ever. Amen.21 Salute every saint in Christ Jesus. The brethren that are with me salute you.22 All the saints salute you, especially they that are of Caesar’s household.23 The grace of the Lord Jesus Christ be with your spirit.