previous next

رومیوں 13

1 ہر شخص اختیار رکھنے والے حکمرانوں کے تابع رہے، کیونکہ تمام اختیار اللہ کی طرف سے ہے۔ جو اختیار رکھتے ہیں اُنہیں اللہ کی طرف سے مقرر کیا گیا ہے۔2 چنانچہ جو حکمران کی مخالفت کرتا ہے وہ اللہ کے فرمان کی مخالفت کرتا اور یوں اپنے آپ پر اللہ کی عدالت لاتا ہے۔3 کیونکہ حکمران اُن کے لئے خوف کا باعث نہیں ہوتے جو صحیح کام کرتے ہیں بلکہ اُن کے لئے جو غلط کام کرتے ہیں۔ کیا آپ حکمران سے خوف کھائے بغیر زندگی گزارنا چاہتے ہیں؟ تو پھر وہ کچھ کریں جو اچھا ہے تو وہ آپ کو شاباش دے گا۔4 کیونکہ وہ اللہ کا خادم ہے جو آپ کی بہتری کے لئے خدمت کرتا ہے۔ لیکن اگر آپ غلط کام کریں تو ڈریں، کیونکہ وہ اپنی تلوار کو خواہ مخواہ تھامے نہیں رکھتا۔ وہ اللہ کا خادم ہے اور اُس کا غضب غلط کام کرنے والے پر نازل ہوتا ہے۔5 اِس لئے لازم ہے کہ آپ حکومت کے تابع رہیں، نہ صرف سزا سے بچنے کے لئے بلکہ اِس لئے بھی کہ آپ کے ضمیر پر داغ نہ لگے۔6 یہی وجہ ہے کہ آپ ٹیکس ادا کرتے ہیں، کیونکہ سرکاری ملازم اللہ کے خادم ہیں جو اِس خدمت کو سرانجام دینے میں لگے رہتے ہیں۔7 چنانچہ ہر ایک کو وہ کچھ دیں جو اُس کا حق ہے، ٹیکس لینے والے کو ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی لینے والے کو کسٹم ڈیوٹی۔ جس کا خوف رکھنا آپ پر فرض ہے اُس کا خوف مانیں اور جس کا احترام کرنا آپ پر فرض ہے اُس کا احترام کریں۔8 کسی کے بھی قرض دار نہ رہیں۔ صرف ایک قرض ہے جو آپ کبھی نہیں اُتار سکتے، ایک دوسرے سے محبت رکھنے کا قرض۔ یہ کرتے رہیں کیونکہ جو دوسروں سے محبت رکھتا ہے اُس نے شریعت کے تمام تقاضے پورے کئے ہیں۔9 مثلاً شریعت میں لکھا ہے، ”قتل نہ کرنا، زنا نہ کرنا، چوری نہ کرنا، لالچ نہ کرنا۔“ اور دیگر جتنے احکام ہیں اِس ایک ہی حکم میں سمائے ہوئے ہیں کہ ”اپنے پڑوسی سے ویسی محبت رکھنا جیسی تُو اپنے آپ سے رکھتا ہے۔“10 جو کسی سے محبت رکھتا ہے وہ اُس سے غلط سلوک نہیں کرتا۔ یوں محبت شریعت کے تمام تقاضے پورے کرتی ہے۔11 ایسا کرنا لازم ہے، کیونکہ آپ خود اِس وقت کی اہمیت کو جانتے ہیں کہ نیند سے جاگ اُٹھنے کی گھڑی آ چکی ہے۔ کیونکہ جب ہم ایمان لائے تھے تو ہماری نجات اِتنی قریب نہیں تھی جتنی کہ اب ہے۔12 رات ڈھلنے والی ہے اور دن نکلنے والا ہے۔ اِس لئے آئیں، ہم تاریکی کے کام گندے کپڑوں کی طرح اُتار کر نور کے ہتھیار باندھ لیں۔13 ہم شریف زندگی گزاریں، ایسے لوگوں کی طرح جو دن کی روشنی میں چلتے ہیں۔ اِس لئے لازم ہے کہ ہم اِن چیزوں سے باز رہیں: بدمستوں کی رنگ رلیوں اور شراب نوشی سے، زناکاری اور عیاشی سے، اور جھگڑے اور حسد سے۔14 اِس کے بجائے خداوند عیسیٰ مسیح کو پہن لیں اور اپنی پرانی فطرت کی پرورش یوں نہ کریں کہ گناہ آلودہ خواہشات بیدار ہو جائیں۔

Romans 13

1 Let every soul be in subjection to the higher powers: for there is no power but of God; and the powers that be are ordained of God.2 Therefore he that resisteth the power, withstandeth the ordinance of God: and they that withstand shall receive to themselves judgment.3 For rulers are not a terror to the good work, but to the evil. And wouldest thou have no fear of the power? do that which is good, and thou shalt have praise from the same:4 for he is a minister of God to thee for good. But if thou do that which is evil, be afraid; for he beareth not the sword in vain: for he is a minister of God, an avenger for wrath to him that doeth evil.5 Wherefore ye must needs be in subjection, not only because of the wrath, but also for conscience’ sake.6 For this cause ye pay tribute also; for they are ministers of God’s service, attending continually upon this very thing.7 Render to all their dues: tribute to whom tribute is due; custom to whom custom; fear to whom fear; honor to whom honor.8 Owe no man anything, save to love one another: for he that loveth his neighbor hath fulfilled the law.9 For this, Thou shalt not commit adultery, Thou shalt not kill, Thou shalt not steal, Thou shalt not covet, and if there be any other commandment, it is summed up in this word, namely, Thou shalt love thy neighbor as thyself.10 Love worketh no ill to his neighbor: love therefore is the fulfilment of the law.11 And this, knowing the season, that already it is time for you to awake out of sleep: for now is salvation nearer to us than when we first believed.12 The night is far spent, and the day is at hand: let us therefore cast off the works of darkness, and let us put on the armor of light.13 Let us walk becomingly, as in the day; not in revelling and drunkenness, not in chambering and wantonness, not in strife and jealousy.14 But put ye on the Lord Jesus Christ, and make not provision for the flesh, to fulfil the lusts thereof.